عقیدہ توحید کے متعلق سوالات

  • Admin
  • Apr 12, 2021

(1) سوال :

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ کو ”حاضِر و ناظر“ کہنا جائز ہے یا نہیں ہے؟

جواب :

بے شک ہر چیز اللہ عَزَّوَجَلَّ پر عیاں ہے اور وہ ہر چیز کو دیکھتا بھی ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان صفات کو بیان کرنے کیلئے ”حاضِر و ناظِر“ کے الفاظ استعمال نہیں کرسکتے کیونکہ ایک تو یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے نہیں ہیں اور دوسرا یہ کہ ان لفظوں کے عربی لُغت میں جو معانی بیان کئے گئے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی شان کے لائق نہیں ہیں اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ ان الفاظ کا اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال منع ہے۔ لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان صفات کو بیان کرنےکیلئے ”حاضر و ناظر“ کے بجائے ”شہید و بصیر“ کہا جائے جیسا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے خود ارشاد فرمایا ہے:اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ(۱۷)ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہر چیز اللہ کے سامنے ہے۔(پ17، الحج:17) ایک اور جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

 

اِنَّ اللّٰهَ سَمیعُ بَصِیْر(۷۵)ترجمۂ کنز الایمان: بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے۔ (پ17، الحج:75)

 

مفتیِ اعظم پاکستان مفتی وقار الدّین قادری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:”حاضر و ناظر کے جو معنی لُغت میں ہیں ان معانی کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ان الفاظ کا بولنا جائز نہیں ہے۔”حاضِر“ کا معنی عربی لغت کی معروف و معتبر کتب المنجد اور مختار الصحاح وغیرہ میں یہ لکھے ہیں: نزدیکی، صحن، حاضر ہونے کی جگہ، جو چیز کھلم کھلا بےحجاب آنکھوں کے سامنے ہو اسے حاضر کہتے ہیں۔ اور ”ناظر“ کے معنی مختار الصحاح میں آنکھ کے ڈھیلے کی سیاہی جبکہ نظر کے معنی کسی امر میں تفکّر و تدبّر کرنا، کسی چیز کا اندازہ کرنا اور آنکھ سے کسی چیز میں تامل کرنا لکھے ہیں۔ ان دونوں لفظوں کے لُغوی معنی کے اعتبار سے اللہتعالیٰ کو پاک سمجھنا واجب ہے۔ بغیر تاویل ان الفاظ کو اللہ تعالیٰ پر نہیں بولا جاسکتا۔ اسی لئے اَسماءِ حُسنیٰ میں ”حاضِر و ناظِر“ بطورِ اسم یا صفت شامل نہیں ہیں۔ قراٰن و حدیث میں یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے آئے ہیں اور نہ ہی صحابۂ کرام اور تابعین یا ائمۂ مجتہدین نے یہ الفاظ اللہتعالیٰ کے لئے استعمال کئے ہیں۔“(وقار الفتاویٰ، 66/1) فتاویٰ فیض الرّسول میں ہے:”اگر حاضر و ناظر بہ معنی شہید و بصیر اعتقاد رکھتے ہیں یعنی ہر موجود اللہتعالیٰ کے سامنے ہے اور وہ ہر موجود کو دیکھتا ہے، تو یہ عقیدہ حق ہے مگر اس عقیدے کی تعبیر لفظ حاضر و ناظر سے کرنا یعنی اللہتعالیٰ کے بارے میں حاضر و ناظر کا لفظ استعمال کرنا نہیں چاہیے لیکن پھر بھی کوئی شخص اس لفظ کو اللہتعالیٰ کے بارے میں بولے تو وہ کُفْر نہ ہوگا۔“(فتاویٰ فیض الرّسول،3/1) اور مفتی شریفُ الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ لکھتے ہیں:”اللہ عَزَّوَجَلَّ کو حاضر و ناظر کہنے والا کافر تو نہیں مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کو حاضر و ناظر کہنا منع ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اَسما توقیفی ہیں یعنی شریعت نے جن اسما کا اطلاق باری تعالیٰ پر کیا ہے اسی کا اطلاق دُرست اور جن اَسما کا اطلاق نہیں فرمایا ان سے احتراز چاہیے۔“(فتاویٰ شارحِ بخاری،305/1)

 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

 

(2) سوال :

اللہ تعالی کے اس فرمان کا معنی کیا ہے ؟( اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے )

 

جواب :

الحمدللہ

اللہ تعالی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے اس پر زمین وآسمان میں حرکات وسکنات اور اقوال وافعال طاعات ومعاصی میں سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ۔

 

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

 

( کیا آپ یہ نہیں جانتے کہ آسمان وزمین کی ہر چیز اللہ تعالی کے علم میں ہے یہ سب لکھی ہوئی کتاب میں محفوظ ہے بیشک یہ امر تو اللہ تعالی پر بالکل آسان ہے ) الحج / 70

 

اور اللہ تعالی نے اپنے علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے اور اسے لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

 

( اور آپ کسی حال میں اور منجملہ ان احوال کے آپ کہیں سے بھی قرآن پڑھتے ہوں اور جو کام بھی کرتے ہوں ہمیں سب کی خبر ہوتی ہے جب تم اس کام میں مشغول ہوتے ہو اور آپ کے رب سے آسمان وزمین میں کوئی چیز ذرہ برابر بھی غائب نہیں نہ ہی اس سے چھوٹی اور نہ ہی بڑی مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے ) یونس / 61

 

اور اللہ تعالی اکیلا ہی علام الغیوب ہے آسمان وزمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اس کا علم رکھتا ہے ۔

 

جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

 

( بے شک میں آسمان وزمین کے غیب کا علم رکھتا ہوں اور جو تم ظاہر کر رہے ہو اور چھپا رہے ہو وہ بھی میرے علم میں ہے ) البقرہ / 33

 

اور اللہ تبارک وتعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے اور اس کے علاو غیب کی کنجیاں کسی اور کے پاس نہیں جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اس آیت میں فرمایا ہے :

 

( اور اللہ تعالی ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ان کو اس کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا اور وہ جو کچھ سمندروں اور خشکی میں ہے اس کا علم بھی اس کے پاس ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور زمین کے تاریک حصوں میں کوئی دانہ نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہے ) الانعام / 59

 

اور اللہ وحدہ ہی یہ جانتا ہے کہ قیامت کب قائم ہو گی اور بارش کے نزول کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور جو کچھ ماں کے رحم میں ہے اور انسان کے عمل وقت اور جگہ اور اس کی موت کا علم بھی اللہ تبارک وتعالی کے پاس ہی ہے ۔

 

اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد مبارک ہے :

 

( بےشک اللہ تعالی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش نازل فرماتا ہے اور جو کچھ ماں کے پیٹ میں ہے اسے بھی جانتا ہے اور کوئی بھی یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ ہی کسی کو یہ معلوم ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا بیشک اللہ تعالی علم والا اور خبر رکھنے والا ہے ) القمان / 34

 

اور اللہ عزوجل ہمارے ساتھ ہے ہمارا کوئی بھی معاملہ اس سے پوشیدہ نہیں ۔

 

اللہ تبارک وتعالی کا فرمان ہے :

 

( اور تم جہاں کہیں بھی ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالی اسے دیکھ رہا ہے ) الحدید / 4

 

اور اللہ تبارک وتعالی ہمارے سارے اعمال پر مطلع ہے ہمارے اچھے اور برے اعمال کو جانتا ہے پھر اس کے بعد وہ ہمیں اس کی خبر بھی دے گا اور قیامت کے دن ان اعمال کا بدلہ بھی ۔

 

جیسا کہ فرمان باری تعالی ہے :

 

( کیا آپ نے یہ نہیں دیکھا کہ اللہ تعالی آسمانوں وزمین کی ہر چیز کو جانتا ہے تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ ہی زیادہ مگر وہ جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا بیشک اللہ تعالی ہر چیز کو جاننے والا ہے ) المجادلۃ / 7

 

اور اللہ وحدہ ہی غیب اور حاضر، سری اور جہری اشیاء کو جانتا ہے ۔

 

جیسا کہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے متعلق فرمایا ہے :

 

(ظاہر وپوشیدہ کا وہ علم رکھنے والا ہے سب سے بڑا اور بلند وبالا ) الرعد / 9

 

اور اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

 

( اور اگر تو اونچی بات کہ تو وہ تو ہر ایک پوشیدہ تر چیز کو بھی بخوبی جانتا ہے ) طہ / 7 .

 

(3) سوال :

جب میں کفار کو یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالی نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے تو وہ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ اور شروع سے اللہ تعالی کیسے موجود تھا ؟ میں اس سوال کا رد کیسے کروں ؟

 

جواب :

الحمد للہ.

 

1- کفار کی طرف سے آپ کو یہ سوال کرنا اصولی طور پر باطل اور سوال کے نفس کے اعتبار سے بھی اس میں تناقض ہے ۔

 

وہ اس طرح کہ اگر بالفرض محال اور جدلی طریقے پر یہ کہا جائے کہ اللہ تعالی کا کوئی خالق ہے تو سائل کہے گا کہ اسے پیدا کرنے والے کے خالق کو کس نے پیدا کیا ؟؟ پھر پیدا کرنے والے کے خالق کے خالق کو کس نے پیدا کیا ؟؟ تو اس طرح ایک ایسا سلسلہ چل نکلے گا جس کی کوئی انتہاء نہیں – تو یہ عقلی طور پر بھی محال ہے ۔

 

تو یہ کہنا کہ مخلوق ہر چیز کے خالق پر جا کر ختم ہو جائے اور اس خالق کو کسی نے پیدا نہیں کیا بلکہ وہ اپنے سوا سب کا خالق ہے تو یہ تو عقل اور منطق کے موافق ہے اور وہ خالق اللہ تعالی ہے ۔

 

2- اور شرعی اور ہمارے دینی اعتبار سے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سوال کے متعلق بتایا ہے کہ یہ سوال کہاں سے نکلا اور آیا اور اس کا علاج اور رد کیا ہے ۔

 

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 

ہمیشہ ہی لوگ ایک دوسرے سے سوال کرتے رہیں گے حتی کہ یہ کہا جائے گا یہ اللہ تعالی نے پیدا کیا ہے تو اللہ تعالی کو کس نے پیدا کیا ؟ تو جو شخص ایسا ( اپنے ذہن میں ) پآئے وہ یہ کہے میں اللہ تعالی پر ایمان لایا ۔

 

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( تم میں سے کسی ایک کے پاس شیطان آکر کہتا ہے آسمان کس نے پیدا کیا ؟ زمین کس نے پیدا کی ؟ تو وہ کہے گا کہ اللہ تعالی نے پھر اس طرح ہی ذکر کیا اور یہ زیادہ کیا اس کے رسولوں کو )

 

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ( تم میں سے کسی ایک کے پاس سیطان آکر کہتا ہے کہ یہ یہ چیز کس نے پیدا کی ہے حتی کہ وہ اسے کہتا ہے کہ تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ تو جب معاملہ یہاں تک جا پہنچے تو وہ اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے اور اس سے رک جائے)

 

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( شیطان بندے کے پاس آکر کہتا ہے اس کو کس نے پیدا کیا ؟)

 

ان سب احادیث کو امام مسلم نے روایت کیا ہے (134)

 

تو ان حادیث میں مندرجہ ذیل بیان ہے :

 

اس سوال کا مصدر اور پیدا ہونے کی جگہ اور شیطان ہے ،

 

اس کا علاج اور اس کا رد یہ ہے کہ:

 

1- کہ وہ خطرات اور شیطان کی تلبیس یعنی حقیقت کو چھپانے کے پیچھے نہ چلے ۔

 

2- وہ یہ کہے کہ میں اللہ تعالی اور اس کے رسول پر ایمان لایا ۔

 

3- شیطان سے اللہ تعالی کی پناہ طلب کرے ۔

 

اور حدیث میں بائیں طرف تین دفعہ تھوکنے اور سورۃ الاخلاص (قل ہو اللہ احد) پڑھنے کا بھی آیا ہے ۔

 

3-اور رہی یہ بات کہ اللہ تعالی کا پہلے سے موجود ہونا تو اس کے متعلق ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبریں ہیں :

 

1- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول اے اللہ تو اول ہے تجھ سے قبل کوئی چیز نہیں اور تو آخر ہے تیرے بعد کوئی چیز نہیں ۔

 

صحیح مسلم حدیث نمبر (2713)

 

3- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد : اللہ تعالی تھا تو اس کے علاوہ کوئی چیز نہیں تھی ،

 

اور ایک روایت میں ہے کہ اور اس سے قبل کوئی چیز نہیں تھی ۔

 

صحیح بخاری حدیث نمبر پہلی (3020) دوسری (6982)اس اضافہ کے ساتھ جو کہ اس موضوع میں قرآن کریم میں آیات بینات ہیں ۔

 

تو مومن کو چاہۓ کہ وہ ایمان لآئے اور شک نہ کرے اور کافر انکار کرتا اور منافق شک وشبہ رکھتا ہے ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ ہمیں ایسا سچا ایمان اور یقین دے کہ جس میں کسی قسم کا شک نہ ہو آمین ۔

 

اور اللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے ۔

 

واللہ اعلم  ورسولہ۔

 

(4) سوال :

اللہ تعالی کے فرمان : (وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّه )ترجمہ: کسی نفس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لے آئے۔ ایسے ہی اللہ تعالی کا فرمان ہے: (اَللهُ يَهْدِيْ مَن يَّشَاءُ )ترجمہ: اللہ تعالی جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے۔ تو میں پوری کوشش کرتا ہوں کہ میں اسی فطرت سلیم پر قائم رہوں جس پر ہمیں اللہ تعالی نے پیدا فرمایا ہے، میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ تعالی کے تمام احکامات کی پاسداری کروں، لیکن اب مجھے اس بارے میں شیطانی وسوسے آنا شروع ہو گئے ہیں، میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ اس بارے میں میری رہنمائی فرمائیں۔

 

جواب :

الحمد للہ.

 

اول:

 

توفیق اور ہدایت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالی جسے چاہے ہدایت دیتا ہے، اور جسے گمراہ کرنا چاہے اسے گمراہ فرما دیتا ہے، فرمان باری تعالی ہے:

 

ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ

 

ترجمہ: یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ جسے چاہتا ہے اس کے ذریعے راہ راست پر لے آتا ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے اسے کوئی راہ پر لانے والا نہیں۔ [الزمر: 23]

 

ایسے ہی فرمان باری تعالی ہے:

 

مَنْ يَشَأِ اللَّهُ يُضْلِلْهُ وَمَنْ يَشَأْ يَجْعَلْهُ عَلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ

 

ترجمہ: جسے اللہ چاہے گمراہ کر دے اور جسے چاہے اسے صراط مستقیم پر چلا دے۔[الانعام: 39]

 

ایک اور مقام پر فرمایا:

 

مَنْ يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَنْ يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ

 

ترجمہ: جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جنہیں وہ گمراہ کر دے سو وہی خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ [الاعراف: 178]

 

ہر مسلمان اپنی نماز میں دعا کرتا ہے کہ: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ترجمہ: ہمیں صراط مستقیم دکھا۔[الفاتحہ: 6] کیونکہ اسے علم ہے کہ ہدایت صرف اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، لیکن اس کے باوجود انسان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ہدایت کے اسباب اپنائے، صبر اور ثابت قدمی کے ساتھ راہ استقامت پر ڈٹا رہے، اللہ تعالی نے انسان کو روشن عقل سے نواز کر مکمل آزادی دی کہ خیر یا شر کچھ بھی کرے، راہ رو بنے یا گمراہ بن جائے، چنانچہ جس وقت انسان حقیقی اسباب اپناتا ہے اور اس بات کا بھی خصوصی اہتمام کرتا ہے کہ اللہ تعالی اسے مکمل ہدایت سے نوازے تو اللہ تعالی کی جانب سے اسے مکمل کامیابی ملتی ہے، جیسے کہ فرمانِ باری تعالی ہے:

 

وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلَاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ

 

ترجمہ: اور اسی طرح ہم نے ان کو باہمی طور پر آزمائش میں ڈالا تاکہ وہ کہیں: کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے [ہدایت دے کر]ہم میں سے احسان فرمایا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟ [الانعام: 53]

 

کچھ لوگوں کے لئے یہ مسئلہ پیچیدہ بن جاتا ہے تو ابن عثیمین رحمہ اللہ نے اس کی کافی تفصیل بیان کی ہے کہ :

” سارے کا سارا معاملہ ہی اللہ تعالی کی مشیئت کے تحت ہے ، ہر چیز اسی کے ہاتھ میں ہے تو انسان کا اس میں کیا کردار؟ اگر اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں گمراہی لکھی ہوئی ہے ہدایت اس کے مقدر میں نہیں ہے تو پھر انسان کیا کرے ؟

 

اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ: اللہ تعالی اسی کو ہدایت دیتا ہے جو ہدایت کے لائق ہو، اور اسی کو گمراہ کرتا ہے جو گمراہی کا حق رکھتا ہو، فرمانِ باری تعالی ہے:

 

فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ

 

ترجمہ: پس جب وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے تو اللہ نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا ۔ [الصف: 5]

 

اسی طرح اللہ تعالی کا فرمان ہے:

 

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَنَسُوا حَظّاً مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ

 

ترجمہ: ان کے اپنا عہد توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا کہ وہ کلام کو اس کے محل سے بدل دیتے ہیں اور انہوں نے اس میں سے ایک حصہ بھلا دیا جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی۔ [المائدۃ: 13]

 

تو ان آیات میں اللہ تعالی نے بتلا دیا ہے کہ جس کو اللہ تعالی نے گمراہ کیا ہے اس کا سبب خود وہی بندہ ہے، اور بندے کو تو معلوم ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے اس کے مقدر میں کیا لکھا ہوا ہے؟! کیونکہ بندے کو تقدیر کا علم ہی اس وقت ہوتا ہے جب تقدیر میں لکھا ہوا کام رونما ہو جاتا ہے، تو بندے کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ کیا اللہ تعالی نے اس کے لئے گمراہ ہونا لکھ دیا ہے یا ہدایت یافتہ ہونا لکھا ہے؟

 

یہ کیا طریقہ ہوا کہ وہ گمراہی کے راستے پر خود چلتا ہے اور پھر کہہ دیتا ہے کہ اللہ تعالی نے گمراہی پر چلنا ہی میرے لیے لکھا ہوا تھا!

 

یہ کیوں نہیں کرتا کہ راہ ہدایت پر چلے اور پھر کہے کہ اللہ تعالی نے مجھے راہ راست پر چلا دیا اور میرے لیے ہدایت لکھی ہوئی تھی!؟

 

تو کیا انسان کے لئے یہ مناسب ہو گا کہ جب کوئی گمراہی والا عمل کر لے تو جبری [تقدیر کو جبری قرار دینے والا]بن جائے، اور جب کوئی نیکی کرنے لگے تو قدری [تقدیر کا سرے سے انکار کرنے والا]بن جائے! یہ طریقہ بالکل ٹھیک نہیں ہے؛ یعنی جب کوئی غلطی اور گناہ ہو جائے تو جبری لوگوں کا نظریہ اپنا لے اور کہنے لگے کہ: یہ معاملہ اللہ تعالی نے میرے کھاتے میں لکھ دیا تھا اور میں اللہ کے لکھے ہوئے سے باہر نہیں جا سکتا تھا!!

 

حقیقت یہ ہے کہ انسان کو قوت ارادی میں مکمل آزادی اور اختیار حاصل ہے، نیز ہدایت کا معاملہ رزق کے معاملے سے زیادہ پیچیدہ بھی نہیں ، کیونکہ اب سب انسانوں کو معلوم ہے کہ اس کا رزق لکھ دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود رزق کے لئے تگ و دو کرتا ہے، اس کے لئے اندرون اور بیرون ملک تک، دائیں اور بائیں ہر جانب کوشش کرتا ہے، یہ نہیں کرتا کہ گھر بیٹھا رہے اور کہے کہ اللہ تعالی نے میرے لیے رزق لکھ دیا ہے تو وہ رزق اب مجھ تک پہنچ کر رہے گا، بلکہ حصول رزق کے اسباب اپناتا ہے کہ رزق کا معاملہ بھی انسان کی کاوش اور محنت سے منسلک ہے، جیسے کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت ہے۔

 

تو جس طرح رزق اللہ تعالی نے لکھ دیا ہے بالکل اسی طرح عمل صالح اور بد اعمال بھی لکھ دئیے ہیں، لیکن یہ کیا کہ دنیاوی رزق کے لئے تو آپ پوری زمین کھنگال ماریں اور جب اخروی رزق اور جنت کمانے کی بات آئے تو آپ نیک عمل کرنا ہی چھوڑ دیں!!

 

رزق اور ہدایت دونوں کا معاملہ یکساں ہے، ان میں کوئی فرق نہیں ہے، تو جس طرح آپ حصولِ رزق کے لئے کوشش کرتے ہیں، اپنی زندگی طویل سے طویل تر کرنے کی جد و جہد میں لگے ہوئے ہیں کہ جیسے ہی کوئی بیماری لاحق ہوتی ہے تو دنیا جہاں کے چکر لگاتے ہیں ، کسی ماہر معالج سے اپنا علاج کرواتے ہیں، حالانکہ آپ کو زندگی پھر بھی اتنی ہی ملنی ہے جتنی آپ کے لئے مقدر کر دی گئی ہے اس میں کسی قسم کی کمی یا زیادتی نہیں کی جائے گی؛ لیکن پھر بھی آپ اس صورت حال میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے گھر میں نہیں بیٹھے رہتے اور یہ نہیں کہتے کہ: میں اپنے گھر میں ہی حالت مرض میں پڑا رہتا ہوں، اگر اللہ تعالی نے میرے لئے زندگی میں اضافہ لکھ رکھا ہے تو میری زندگی میں اضافہ ہو جائے گا وگرنہ نہیں! بلکہ آپ اپنی پوری کوشش اور جانفشانی کے ساتھ ایسے معالج کی تلاش میں رہتے ہیں جو آپ کا علاج بھی کرے اور آپ کے نزدیک وہ ایسے معالجین میں بھی شامل ہو جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالی نے آپ کے لئے شفا لکھ دی ہے۔

 

تو آخرت کے معاملے میں آپ کا وہی رویہ کیوں نہیں ہوتا جو آپ دنیاوی معاملات میں اپناتے ہیں؟! ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ تقدیر چھپایا گیا ایک راز ہے، آپ اسے جاننا بھی چاہیں تو نہیں جان سکتے۔

 

اب آپ دو راستوں کے سنگم پر ہیں، ایک راستہ آپ کو سلامتی، کامیابی، سعادت اور عزت کی جانب لے کر جانے والا ہے، اور دوسرا راستہ تباہی، حسرت اور رسوائی کی طرف لے جانے والا ہے۔

 

آپ دونوں راستوں کے اس سنگم میں مکمل با اختیار حالت میں کھڑے ہیں، اور آپ کے سامنے ایسی کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو آپ کو دائیں جانب راستے پر چلنے سے روکے، نہ ہی بائیں جانب چلنے سے روکنے والی کوئی چیز ہے، آپ چاہیں تو دائیں جانب چلے جائیں اور چاہیں توں بائیں جانب چل نکلیں۔

 

تو اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے مکمل اختیار سے ہی کوئی کام کرتا ہے تو جیسے وہ دنیاوی معاملات میں اپنے اختیارات کو استعمال کرتا ہے، تو بالکل اسی طرح آخرت کے معاملات میں بھی مکمل صاحب اختیار ہوتا ہے، بلکہ آخرت کا راستہ تو دنیا کے بہت سے راستوں سے بالکل واضح ہے؛ کیونکہ آخرت کے راستوں کو واضح کرنے والا اللہ تعالی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانی آخرت کے راستے کو واضح فرمایا ہے، اور اسی کا لازمی تقاضا ہے کہ آخرت کا راستہ دنیاوی راستے سے زیادہ واضح ہو، لیکن اس کے باوجود بھی انسان دنیاوی معاملات میں خوب محنت اور تگ و دو کرتا ہے حالانکہ اس کے نتائج کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہوتی، تاہم دوسری طرف آخرت کے معاملات میں بالکل لا پروا بن جاتا ہے حالانکہ آخرت کے راستے کے نتائج معلوم بھی ہیں اور ان کی ضمانت بھی ہے؛ کیونکہ یہ نتائج اللہ تعالی کے وعدے کے مطابق ملیں گے، اس لیے کہ اللہ تعالی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔

 

اس کے بعد ہم کہتے ہیں کہ: اہل سنت والجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ انسان اپنے مکمل اختیار سے ہی ہر کام کرتا ہے، وہ جو چاہے بول سکتا ہے، لیکن اس کا ارادہ اور اختیار اللہ تعالی کے ارادے اور مشیئت کے ماتحت ہیں۔

 

اس کے بعد اہل سنت و الجماعت یہ بھی عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی کی مشیئت اللہ تعالی کی حکمت کے تابع ہے، اہل سنت والجماعت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی کی مشیئت مطلق اور حکمت سے باہر نہیں ہے، بلکہ وہ حکمت کے تابع ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کے اسمائے گرامی میں الحکیم بھی شامل ہے، اور حکیم اسے کہتے ہیں جو تمام امور کو کونی و شرعی ، عملی و تخلیقی ہر اعتبار سے حکمت بھرے انداز میں مکمل کرتا ہے، تو اللہ تعالی اپنی حکمت کے تحت جس متلاشی حق کے لئے چاہتا ہے ہدایت لکھ دیتا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی جانتا ہے کہ وہ حق کا متلاشی ہے اور اس کا دل استقامت پر قائم ہے۔

 

اگر کوئی شخص ایسا نہیں ہے تو اس کے لئے گمراہی لکھ دیتا ہے، ایسا اس شخص کے لئے ہوتا ہے جس کو اسلام کی دعوت دی جائے تو اس کا سینہ تنگ ہو کر آسمان کی جانب چڑھنے لگتا ہے، تو اللہ تعالی کی حکمت ایسے شخص کے ہدایت یافتہ ہونے کو مسترد کرتی ہے، الّا کہ اللہ تعالی اس کے دل میں نیا ولولہ پیدا فرما دے اور اس کے ارادوں کو صحیح سمت دے دے، اللہ تعالی تو ہر چیز پر قادر ہے، لیکن حکمت الہی کا تقاضا ہے کہ اسباب اور مسبب دونوں کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے، دونوں الگ الگ نہیں ہو سکتے۔” اختصار کے ساتھ اقتباس مکمل ہوا۔

” رسالة في القضاء والقدر ” (ص14-21)

 

مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں مسلمان قضا و قدر پر ایمان اور مکلف انسان پر عائد ذمہ داری کے مسئلے کو سمجھ سکتا ہے، نیز یہ بھی سمجھ سکتا ہے کہ اس پر کس طرح انسان کی نیک بختی اور بد بختی مرتب ہوتی ہے، چنانچہ ہدایت اور جنت میں داخلہ عمل صالح کی بنا پر ہو گا، اللہ تعالی نے اہل جنت کے بارے میں فرمایا:

 

وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

 

ترجمہ: اور انہیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے تم جس کے وارث اپنے اعمال کے بدلے بنائے گئے ہو ۔ [الاعراف: 43]

 

ایک اور مقام پر فرمایا:

 

ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

 

ترجمہ: تم اپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے جنت میں داخل ہو جاؤ۔ [النحل: 32]

 

جبکہ دوسری جانب گمراہی اور جہنم میں داخلے کا سبب اللہ کی نافرمانی اور اللہ کی اطاعت گزاری سے رو گردانی ہے، اللہ تعالی نے جہنمی لوگوں کے بارے میں فرمایا:

 

ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ

 

ترجمہ: پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ ابدی عذاب کا مزا چکھو۔ یہ تمہیں انہی کاموں کے بدلے دیا جاتا ہے جو تم کرتے رہے ہو۔[یونس: 52]

 

ایسے ہی ایک اور مقام پر فرمایا:

 

وَذُوقُوا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ

 

ترجمہ: تم اپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلے ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ [السجدۃ: 14]

 

تو ایسی صورت میں مسلمان اپنا پہلا قدم ہی صحیح راستے اور سمت میں رکھتے ہوئے ایک لمحہ بھی عمل کے بغیر نہیں گزارتا یا اس لمحے میں ایسا کام کرتا ہے جو اللہ تعالی کی طرف لے جانے والا ہے، اور ساتھ ساتھ اللہ تعالی کے سامنے عاجزی، انکساری بھی اپناتا ہے، اور اس چیز کا بھر پور ادراک رکھتا ہے کہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہی آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں، اس لیے ہمیشہ اور دائمی طور پر اسی کے سامنے اپنی فقیری رکھتا ہے، ہمیشہ متمنی رہتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کی توفیق اور اسی کی طرف سے ملنے والی صحیح سمت کا طلب گار ہے۔

 

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے لئے ہدایت لکھ دے اور ہمیں ہمہ قسم کی بھلائی کرنے کی توفیق سے نوازے۔

 

واللہ اعلم ورسولہ۔

 

(5) سوال :

اللہ تعالی کہاں ہے ؟ کیا ہم حساب و کتاب کے دن اللہ تعالی سے ملاقات کریں گے ؟

 

جواب :

الحمد للہ.

 

کتاب اللہ اور سنت نبویہ میں شرعی دلائل سے یہ ثابت ہے کہ اللہ سبحانہ وتعالی اپنے آسمانوں کے اوپر عرش پر مستوی ہے جس طرح اس کی عظمت وجلال کے شایان شان جس طرح کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

 

( رحمن عرش پر مستوی ہے )

 

رہی یہ بات کہ اللہ تعالی کو دیکھنا اور ملاقات کرنا تو اللہ تعالی سے ملاقات موت کے بعد اور قیامت کے دن بھی ہو گی لیکن اللہ تعالی کو صرف قیامت کے دن ہی دیکھا جا سکے گا ۔

 

موت کے بعد اللہ تعالی سے ملاقات کے متعلق صحیح بخاری میں حدیث وارد ہے امام بخاری رحمہ اللہ الباری نے صحیح بخاری میں باب باندھا ہے کہ جو شخص اللہ تعالی سے ملاقات کرنا پسند کرتا تو اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے اس کے بعد مندرجہ ذیل حدیث درج فرمائی ہے :

 

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 

( جو شخص اللہ تعالی سے ملاقات کرنا پسند کرتا تو اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات کرنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالی سے ملاقات کرنا پسند نہیں کرتا اللہ تعالی بھی اس سے ملاقات کرنا ناپسند کرتا ہے تو عائشہ رضی اللہ عنہا یا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے فرمایا ہم تو موت کو نا پسند کرتی ہیں ، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

 

یہ بات نہیں لیکن جب مومن کی موت قریب آتی ہے تو اسے اللہ تعالی کی رضا اور کرم کی خوشخبری سنائی جاتی تو اس کے نزدیک جو کچھ آگے ہے اس سے زیادہ پسند کوئی چیز نہیں ہوتی تو وہ اللہ تعالی کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور بیشک کافر کو جب موت آتی ہے تو اسے اللہ کے عذاب اور اس کی سزا کی خبر دی جاتی ہے تو اسے اس زیادہ ناپسند کوئی چیز نہیں ہوتی جو کچھ اس کے آگے ہے وہ اللہ تعالی کی ملاقات کو ناپسند کرتا اور اللہ تعالی اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر 6026

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ( تو اس کے نزدیک جو کچھ آگے ہے اس سے زیادہ پسند کوئی چیز نہیں ہوتی) یعنی موت کے بعد جس کا وہ سامنا کرے گا ۔

 

مسلم اور نسائی نے شریح بن ہانی سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور انہیں کہا کہ میں نے ایک حدیث سنی ہے اگر تو ایسے ہی ہے تو ہم ہلاک ہو گۓ پھر اس حدیث کو ذکر کیا اور کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو کہ موت کو ناپسند نہ کرتا ہو تو عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں ایسا نہیں ہے جیسا کہ آپ سوچ رہے ہیں لیکن جب آنکھیں اوپر اٹھ جائیں یعنی قریب الموت شخص اپنی آنکھیں اوپر کو کھول دے اور اسے جھپکے نہ اور سینہ کھڑکھڑآئے گھنگرو بولے یعنی روح سینہ میں متردد ہو اور چمڑا سمٹ کر سخت ہو جائے اور اس میں کھچاؤ پیدا ہو جائے یعنی اکٹھی ہو جائے اور یہ سب حالتیں قریب الموت شخص کی ہوتی ہیں ۔

 

خطابی کا کہنا ہے کہ : القاء کئ نوعیت کی ہو گی کچھ تو آمنے سامنے ہو گی اور کچھ بعث ہے فرمان باری تعالی ہے ( وہ لوگ جنہوں نے ہماری ملاقات کو جھٹلایا ) اور موت بھی ہے جسیا کہ فرمان باری تعالی ہے ( جو اللہ تعالی کی ملاقات کی امید رکھتا ہے تو بیشک اللہ تعالی کا مقرر کردہ وقت آنے والا ہے ) اور اللہ تعالی کا فرمان ( کہہ دیجۓ جس موت سے تم بھاگ رہے ہو وہ تم سے ملاقات کرنے والی ہے )

 

اور حدیث میں مذکور اللہ تعالی کی ملاقات سے مراد موت نہیں ہے اس کی دلیل دوسری روایت میں ہے ( اور موت اللہ تعالی کی لقاء سے پہلے ہے ) تو جب موت اللہ تعالی سے لقاء کا وسیلہ تھی اسے اللہ تعالی لقاء سے تعبیر کر دیا گیا ۔

 

اور ابو عبیدہ بن سلام کا قول ہے کہ : (یعنی حدیث سے مقصود ) موت سے کراہت اور اس کی شدت مراد نہیں کیونکہ اس سے تو کوئی نہیں بچ سکتا لیکن مذمت والی یہ چیز ہے کہ دنیا اور اس کی طرف مائل ہونے کو ترجیح دینا اور اللہ تعالی اور دار آخرت میں جانے سے کراہیت محسوس کرنا ہے ۔

 

ان کا کہنا ہے کہ تو اس سے یہ واضح ہوا کہ اللہ تعالی نے اس قوم پر یہ عیب لگایا ہے جو کہ دنیا کی زندگی سے محبت کرتی ہے ( بے شک وہ لوگ جو کہ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پر راضي ہو گۓ اور اس پر اطمینان کر بیٹھے ہیں )

 

اور امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

 

حدیث کا معنی یہ ہے کہ شرعی طور پر جس محبت اور کراہت حالت نزع میں ہو جس وقت کہ توبہ بھی قبول نہیں ہوتی کیونکہ قریب الموت شخص کو یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ کہاں جانے والا ہے اور اس کا کیا حال ہو گا ۔

 

اور حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ صحت کی حالت میں زندگی کو ان نعمتوں پر ترجیح دینا جو کہ موت کے بعد آخرت میں اسے ملنی ہیں جو اس موت کو ناپسند کرتا ہے اسے مذموم کہا گیا ہے اور جو اس موت کو اس لۓ ناپسند کرتا ہے کہ اس کا مواخذہ کیا جائے گا ۔

 

مثلا وہ اعمال کے اعتبار سے ناقص ہو اور اس نے موت کی تیاری نہیں کی کہ وہ اس ضرر اور نقصان سے بچ سکے اور اللہ تعالی کے فرائض کو ادا کر سکے تو یہ شخص معذور ہے لیکن جس کی یہ حالت ہو اس کے لۓ ضروری ہے کہ وہ اس کی تیاری میں جلدی کرے تا کہ جب موت کا وقت آئے تو وہ اسے ناپسند نہ کرے بلکہ موت کے بعد اللہ تعالی سے ملاقات کرنے کے لۓ اس موت کو پسند کرے ۔

 

اور مندرجہ بالا حدیث میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی کو دنیا میں کوئی بھی زندہ شخص نہیں دیکھ سکتا اللہ تعالی کو دیکھنا اور یہ رویت مومنوں کے لۓ موت کے بعد ہو گی جو کہ اس قول سے ماخوذ ہے ( اور موت اللہ تعالی کی لقاء سے پہلے ہے )

 

صحیح مسلم میں اس سے بھی صراحت کے ساتھ یہ بات موجود ہے :

 

ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی ایک لمبی اور مرفوع حدیث میں ذکر ہے کہ : ( آپ کو علم ہونا چاہۓ کہ تم موت سے قبل اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتے )

 

اور رہی یہ بات کہ قیامت کے دن اللہ تعالی کو دیکھنا اور ملاقات تو ثابت ہے اور اس کے بہت سے دلائل ہیں ان میں اللہ تعالی کا یہ فرمان بھی ہے :

 

(اس روز بہت سے چہرے تروتازہ اور بارونق ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے )

 

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث مروی ہے کہ وہ بیان کرتے ہیں کہ :

 

(لوگ کہنے لگے اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اگر چودیوں کا چاند طلوع ہوا اور اس کے آگے کوئی بادل وغیرہ نہ ہوں تو آپ اسے دیکھنے میں کوئی مشکل ہوتی ہے ؟ تو صحابہ کہنے لگے نہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح تم اپنے رب کو دیکھو گے ) صحیح بخاری حدیث نمبر 764

 

ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ملے تو ہم سے راضی ہو ۔

 

اللہ تعالی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرمآئے آمین

 

واللہ اعلم  ورسولہ۔

 

(6) سوال :

کیا یہ ممکن ہے کہ آپ مندرجہ ذیل حدیث کی شرح کر دیں ؟

اللہ تعالی کا فرمان ہے :

( جس نے میرے لۓ ولی کو تکلیف دی میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے وہ اس سے بھی زیادہ پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ، میرا بندہ جب نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے تم میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں )

فتح الباری حدیث نمبر (6502) اس حدیث کو امام بخاری اور امام احمد بن حنبل اور بیہقی رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے اس حدیث میں سے جس کی میں شرح چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ :

( اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کا آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے )

 

جواب :

الحمدللہ

حدیث کے اس جزء کا معنی یہ ہے کہ بندہ جب فرائض سے اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اس کے بعد نوافل کے ساتھ بھی قرب چاہتا ہے تو اللہ سبحانہ وتعالی اسے اپنا مقرب بنا کر اسے ایمان کے درجہ سے احسان کے درجہ پر فائز کر دیتا ہے تو بندہ اس طرح ہوتا ہے جس طرح کہ وہ اللہ تعالی کو دیکھ رہا ہو ۔

 

جس کی بنا پر اس کا دل اللہ تعالی کی محبت ، معرفت ، تعظیم ۔ اس کے خوف وڈر اور عظمت وجلال سے بھر جاتا ہے ۔

 

حب دل اس سے بھر جائے تو اللہ تعالی کے علاوہ ہر چیز سے تعلق منقطع ہو جاتا اور بندے کا اس کی خواہشات سے تعلق باقی نہیں رہتا اور نہ ہی وہ اپنے ارادے سے کچھ کرتا ہے بلکہ وہ اپنے مولا اور رب کی چاہت پر عمل کرتا اور اس کی زبان سے اللہ تعالی کے ذکر کے علاوہ کچھ نکلتا ہی نہیں اس کی حرکات وسکنات اللہ تعالی کے حکم سے ہوتی ہیں اور اس کا بولنا اور سننا اور نظر کے ساتھ دیکھنا یہ سب کچھ اللہ تعالی کی توفیق سے ہے ۔

 

تو پھر بندہ وہ کچھ سنتا ہے جو کہ اس کے رب اور مولا کو پسند ہے اور دیکھتا وہ اس چیز کو جو اللہ کو راضی کرے اور ہاتھ سے وہ پکڑتا اور پاؤں سے اس طرف جاتا ہے جس میں اس کے رب اور مولا کی رضا پنہاں ہوتی ہو ۔

 

اور اس حدیث کا یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالی ہی اس کا ہاتھ اور پاؤں اور اس کی آنکھ و کان ہے – اللہ تعالی بلند اللہ سبحانہ وتعالی اپنے عرش پر مستوی اور اپنی ساری مخلوق سے بلند وبالا ہے لیکن اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کے دیکھنے وسننے اور پکڑنے اور چلنے میں اسے یہ توفیق دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالی کے پسندیدہ کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کرتا۔

 

اسی لۓ دوسری روایت میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

 

( تو وہ میرے ساتھ سنتا اور دیکھتا اور پکڑتا اور چلتا ہے ) یعنی اللہ عزوجل اسے اس کے اعمال واقوال اور سمع وبصر میں توفیق دے دیتا ہے ۔

 

اس حدیث کا معنی اہل سنت والجماعت کے ہاں یہی ہے جو مندرجہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے تو اس توفیق کے ساتھ اللہ تعالی اس کی دعا کو قبول فرماتا اور اگر وہ سوال کرتا ہے تو اسے عطا فرماتا اور مدد طلب کرنے پر اس کی مدد فرماتا اور جب پناہ طلب کرتا ہے تو اسے پناہ دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ا ھـ

 

( اس عبارت میں اختصار کیا گیا ہے تفصیل کے لۓ )

 

دیکھۓ کتاب :

 

جامع العلوم الحکم (2 / 347)

 

اور شیخ ابن باز رحمہ اللہ کا فتوی ( نور علی الدرب ) کیسٹ نمبر 10

 

جو بھی اس معنی کے علاوہ عرب کی بھی مخالفت کی اور اس طرح کے عبارات سے جو کچھ سمجھا جاتا ہے اس کی بھی مخالفت کرتا ہے ۔

 

شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کا قول ہے :

 

( آپ دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے بندے اور معبود اور تقرب حاصل کرنے والے اور جس کا تقرب حاصل کیا جا رہا ہے محب اور محبوب اور اسی طرح سائل اور مسئول حاجت مند اور حاجت پوری کرنے والے پناہ طلب کرنے والے اور پناہ دینے والے کا ذکر کیا ہے ۔

 

حدیث تو دو مختلف اور جدا چیزوں پر دلالت کرتی ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے سے جدا ہے تو جب ایسا ہی ہے تو اللہ تعالی کے اس فرمان کہ ( میں اس کا کان اور آنکھ پاؤں ہوتا ہوں ) کا ظاہر یہ نہیں کہ خالق مخلوق کا جزء یا وصف ہو اللہ تعالی اس سے بلند و بالا ہے ۔

 

بلکہ اس کا ظاہر اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی اس بندے کی سمع وبصر اور پکڑ درست کر دیتا ہے تو اس کی سمع میں اللہ تعالی کے لۓ اخلاص پیدا ہو جاتا ہے اور اسی سے استعانت طلب کرتا اور اسی کی اتباع کرتا اور اسی کی شریعت پر عمل کرتا ہے اور اس طرح اس کی بصر اور پکڑ اور چال میں بھی اخلاص پیدا ہو جاتا ہے ) اھـ

 

مجموع فتاوی ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی ( 1/ 145)

 

واللہ اعلم  ورسولہ۔

 

(7) سوال :

مسلمان کواللہ تعالی کے متعلق کیسا خیال کرنا چاہۓ ؟

مجھے اس بات کا علم ہے کہ اللہ تعالی کودیکھنا ممکن نہیں تو کیا میں اللہ تبارک و تعالی کوآدمی کی شکل وہیئت کا خیال کروں یا کہ اللہ تبارک وتعالی نور ہے ؟

 

جواب :

الحمد للہ.

 

اللہ تبارک وتعالی کا کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

 

اللہ تعالی کی مثل کوئ نہیں اوروہ سننے والا دیکھنے والا ہے تو اس اللہ تعالی کی نہ تو کوئ مثل ہے اورنہ ہی کوئ شبیہ ہے اورنہ ہی اس کا کوئ ہمسر اورنہ شریک ہے ۔ اور وہ اللہ عزوجل مخلوق کی مماثلت سے منزہ اورپاک ہے ، تو اللہ تعالی کے متعلق ابن آدم کے ذہن میں جو بھی آتا ہے وہ اس سے بھی اعظم اور بڑھ کر ہے ، اورمخلوق کے لۓ یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اللہ جل وعلا کا احاطہ کرسکے اوراس کی صورت کا خیال بھی ذہن میں لا سکے ۔

 

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

 

اورمخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہوسکتا

 

اورپھراصل میں مسلمان تواس کا مکلف ہی نہیں کہ وہ اللہ تبارک وتعالی کا تخیل لاۓ اوریا اس کا تصورکرے ، بلکہ اس پر واجب تویہ ہے کہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی کی صفات علی اس طرح ہیں جس طرح کہ اس کی عظمت و جلال کےشایان شان اوراس کے لائق ہیں ان صفات میں اس کی کوئ مماثلت نہیں کرسکتا ۔

 

اور مسلمانوں کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ دنیا میں اللہ تعالی کو نہیں دیکھا جا سکتا جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :

 

آنکھیں اس کا ادراک نہیں کرسکتیں بلکہ اللہ تعالی کومومن لوگ آخرت میں میدان محشرکے اندر اوراسی طرح جنت میں بھی دیکھیں گے ۔

 

حدیث میں وارد ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ کیا آپ نے اپنے رب کودیکھا ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ میں نے نور دیکھا ، اوردوسری روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نور کوکیسے دیکھ سکتاہوں ۔ صحیح مسلم ۔

 

اوریہ اللہ تعالی کے اس قول کے موافق ہے جوکہ موسی علیہ السلام کو کہا تھا اور اس کا ذکر سورۃ اعراف میں موجود ہے لن ترانی تومجھے نہیں دیکھ سکتا ” یعنی دنیا میں نہیں دیکھ سکتا ۔

 

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے علاوہ کسی نے بھی اللہ تعالی کواپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ، توجب روزقیامت میدان محشر میں مومن لوگ اللہ تعالی کودیکھیں گے تو اللہ تعالی کی عظمت وجلال کی وجہ سے سجدہ میں گر پڑیں گے ، اور اسی طرح جنت میں سب سے بڑی اور عظیم نعمت اللہ تعالی کا دیدار ہوگا جو کہ اہل جنت کو مطلقا عطا کی جاۓ گی ۔

 

تواس لۓ میرے بھائ آپ اللہ تعالی کو ان اسماء اور صفات سے پہچانیں جن کی خبر اللہ تعالی نے اپنی کتاب قرآن کریم میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے ، اوراپنے آپ کو اس چیز کی طرف نہ لے جائيں جس کے آّّپ مکلف ہی نہیں اور جس کی آپ میں طاقت نہیں ، اور وہ کام کریں جن کا اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا ہے ، اور آپ شیطانی وسوسوں کوچھوڑ دیں اللہ تعالی آپ کو وہ کام کرنے کی توفیق عطا فرماۓ جس میں اس کی رضاہو ۔ آمین

 

واللہ تعالی اعلم  ورسولہ۔

 

(8) سوال :

اللہ تعالی ہماری دعائیں کیسے قبول فرماتا ہے؟

 

جواب :

الحمد للہ.

 

امام ابن قیم رحمہ اللہ کہتے ہیں:

 

“دعائیں، اور تعوّذات[ایسی دعائیں جن میں اللہ کی پناہ حاصل کی جائے] کی حیثیت اسلحہ کی طرح ہے، اور اسلحے کی کارکردگی اسلحہ چلانے والے پر منحصر ہوتی ہے، صرف اسلحے کی تیزی کارگر ثابت نہیں ہوتی، چنانچہ اسلحہ مکمل اور ہر قسم کے عیب سے پاک ہو، اور اسلحہ چلانے والے بازو میں قوت ہو، اور درمیان میں کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو تو دشمن پر ضرب کاری لگتی ہے، اور ان تینوں اشیاء میں سے کوئی ایک ناپید ہو تو نشانہ متأثر ہوتا ہے”

 

“الداء والدواء ” از ابن قیم، صفحہ: 35

 

مذکورہ بالا بیان سے واضح ہوا کہ کچھ حالات، آداب ، اور احکام ہیں جنکا دعائیہ الفاظ اور دعا مانگنے والے میں ہونا ضروری ہے، اور کچھ رکاوٹیں، اور موانع ہیں جنکی وجہ سے دعا قبول نہیں ہوتی، چنانچہ ان اشیاء کا دعا مانگنے والے، اور دعائیہ الفاظ سے دور ہونا ضروری، لہذا جوں ہی یہ تمام اشیاء موجود ہونگی، دعا قبول ہوجائے گی۔

 

چنانچہ قبولیتِ دعا کیلئے معاون اسباب میں چند یہ اسباب شامل ہیں:

 

1- دعا میں اخلاص: دعا کیلئے اہم اور عظیم ترین ادب ہے، اللہ تعالی نے بھی دعا میں اخلاص پر زور دیتے ہوئے فرمایا: (وَادْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ) ترجمہ: اور عبادت اللہ تعالی کیلئے خالص کرتے ہوئے [دعا میں]اسی کو پکارو۔ الاعراف/29، اور دعا میں اخلاص کا مطلب یہ ہے کہ : دعا کرنے والا یہ نظریہ رکھے کہ صرف اللہ عز وجل کو ہی پکارا جاسکتا ہے، اور وہی اکیلا تمام ضروریات کو پورا کر سکتا ہے، اور دعا کرتے ہوئے ریا کاری سے گریز کیا جائے۔

 

2- توبہ ، اور اللہ کی طرف رجوع: چونکہ گناہ دعاؤں کی عدمِ قبولیت کیلئے بنیادی سبب ہے، اس لئے دعا مانگنے والے کیلئے ضروری ہے کہ مانگنے سے پہلے گناہوں سے توبہ و استغفار کرے، جیسے کہ اللہ عزو جل نے نوح علیہ السلام کی زبانی فرمایا: (فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا (10) يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا (11) وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا (12))

 

ترجمہ: [نوح علیہ السلام کہتے ہیں] اور میں نے ان سے کہا کہ اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے (10) اللہ تعالی تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا (11) اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کرے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور نہریں جاری کرے گا ۔ نوح/ 10-12

 

3- عاجزی، انکساری، خشوع،و خضوع، [قبولیت کی ]امید اور [دعا مسترد ہونے کا]خوف، حقیقت میں دعا کی روح، دعا کا مقصود ، اور دعا کا مغز ہے: فرمانِ باری تعالی ہے:( اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ)

 

ترجمہ: اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور خفیہ طور پر پکارو، بے شک وہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ الاعراف/ 55

 

4- دعا الحاح کیساتھ بار بار کی جائی، دعا کرنے میں تنگی، اور سستی کا شکار نہ ہو: دو تین بار دعا کرنے سے الحاح ہوجاتا ہے، تین پر اکتفاء کرنا سنت کے مطابق ہوگا، جیسے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین ، تین باردعا اور استغفار پسند تھی۔ ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

 

5- خوشحالی کے وقت دعا کرنا، اور آسودگی میں کثرت سے دعائیں مانگنا، اس بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (خوشحالی میں اللہ کو تم یاد رکھو، زبوں حالی میں وہ تمہیں یاد رکھے گا)احمد نے اسے روایت کیا ہے۔

 

6- دعا کی ابتداء اور انتہا میں اللہ تعالی کے اسمائے حسنی، اور صفاتِ باری تعالی کا واسطہ دیا جائے، فرمان باری تعالی ہے:

 

(وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى فَادْعُوهُ بِهَا) ترجمہ: اور اللہ تعالی کے اچھے اچھے نام ہیں، تم انہی کا واسطہ دیکر اُسے پکارو۔ الاعراف/ 180

 

7- جوامع الکلم، واضح، اور اچھی دعائیں اختیار کی جائیں، چنانچہ سب سے بہترین دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ دعائیں ہیں، ویسے انسان کی ضرورت کے مطابق دیگر دعائیہ الفاظ سے بھی دعا مانگی جاسکتی ہے۔

 

اسی طرح دعا کے مستحب آداب [یعنی یہ واجب نہیں ہیں]میں یہ بھی شامل ہے کہ : با وضو، قبلہ رُخ ہوکر دعا کریں، ابتدائے دعا میں اللہ تعالی کی حمد وثناء خوانی کریں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھیں، اور دعا کرتے ہوئے ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے۔

 

قبولیتِ دعا کے امکان زیادہ قوی کرنے کیلئے قبولیت کے اوقات، اور مقامات تلاش کریں۔

 

چنانچہ دعا کیلئے افضل اوقات میں : فجر سے پہلے سحری کا وقت، رات کی آخری تہائی کا وقت، جمعہ کے دن کے آخری لمحات، بارش ہونے کا وقت، آذان اور اقامت کے درمیان والا وقت۔

 

اور افضل جگہوں میں تمام مساجد ، اور مسجد الحرام کو خصوصی درجہ حاصل ہے۔

 

اور ایسے حالات جن میں دعاؤں کی قبولیت کے امکانات زیادہ روشن ہوتے ہیں وہ یہ ہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، روزہ دار کی دعا، مجبور اور مشکل میں پھنسے ہوئے شخص کی دعا، اور ایک مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اسکی عدم موجودگی میں دعا کرنا شامل ہے۔

 

جبکہ دعا کی قبولیت کے راستے میں بننے والی رکاوٹوں میں درج ذیل امور شامل ہیں:

 

1- دعا کرنے کا انداز ہی نامناسب ہو: مثال کے طور پر دعا میں زیادتی ہو، یا اللہ عزوجل کیساتھ بے ادبی کی جائے، دعا میں زیادتی سے مراد یہ ہے کہ: اللہ تعالی سے ایسی دعا مانگی جائے جو مانگنا جائز نہیں ہے، جیسے کہ اپنے لئے دائمی دنیاوی زندگی مانگے، یا گناہ اور حرام اشیاء کا سوال کرے، یا کسی کو موت کی بد دعا دے،چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا: (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے، جب تک وہ گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہ کرے)مسلم

 

2- دعا کرنے والے شخص میں کمزوری ہو، کہ اسکا دل اللہ تعالی کی طرف متوجہ نہ ہو، یا پھر اللہ کیساتھ بے ادبی کا انداز اپنائے، مثال کے طور پر: دعا اونچی اونچی آواز سے کرے، یا اللہ سے ایسے مانگے کہ جیسے اُسے اللہ تعالی سے دعا کی قبولیت کیلئے کوئی چاہت ہی نہیں ہے، یا پھر تکلّف کیساتھ الفاظ استعمال کرے، اور معنی مفہوم سے توجہ بالکل ہٹ جائے، یا بناوٹی آہ و بکا اور چیخ و پکار میں مبالغہ کیلئے تکلّف سے کام لے۔

 

3- دعا کی قبولیت کیلئے کوئی رکاوٹ موجود ہو: مثلا اللہ کے حرام کردہ کاموں کا ارتکاب کیا جائے، جیسے کہ: کھانے ، پینے، پہننے، جائے اقامت اور سواری میں حرام مال استعمال ہو، ذریعہ آمدنی حرام کاموں پر مشتمل ہو، دلوں پر گناہوں کا زنگ چڑھا ہوا ہو، دین میں بدعات کا غلبہ ہو، اور قلب پر غفلت کا قبضہ ہو۔

 

4- حرام کمائی کھانا،قبولیتِ دعا کیلئے سب سے بڑی رکاوٹ ہے، چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لوگو! بیشک اللہ تعالی پاک ہے، اور پاکیزہ اشیاء ہی قبول کرتا ہے، چنانچہ اللہ تعالی نے متقی لوگوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو دیا ، فرمایا: (يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ) ترجمہ: اے رسولو! پاکیزہ چیزیں کھاؤ، اور نیک عمل کرو، بیشک تم جو بھی کرتے ہو میں اسکو بخوبی جانتا ہوں۔ المؤمنون/51

 

اور مؤمنین کو فرمایا: (يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ) ترجمہ:اے ایمان والو! ہم نے جو تم کو پاکیزہ اشیاء عنائت کی ہیں ان میں سے کھاؤ۔ البقرہ/172، پھر اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذکر فرمایا: جس کے لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ ، اور گرد و غبار سے اَٹے ہوئے بال ہیں، اپنے دونوں ہاتھوں کو آسمان کی جانب اٹھا کر کہتا ہے: یا رب! یا رب! اسکا کھانا بھی حرام کا، پینا بھی حرام کا، اسے غذا بھی حرام کی دی گئی، ان تمام اسباب کی وجہ سے اسکی دعا کیسے قبول ہو!!) اس حدیث کو مسلم نے روایت کیا ہے۔

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کا ذکر کرتے ہوئے کچھ امور بھی بیان فرمائے، جن سے دعا کی قبولیت کے امکان زیادہ روشن ہوجاتے ہیں، مثلا: کہ وہ مسافر ہے، اللہ کا ہی محتاج ہے، لیکن اسکے باوجود دعا اس لئے قبول نہیں ہوتی کہ اس نے حرام کھایا، اللہ تعالی ہمیں ان سے محفوظ رکھے، اور عافیت نصیب فرمائے۔

 

5- دعا کی قبولیت کیلئے جلد بازی کرنا، اور مایوس ہوکر دعا ترک کر دینا: چنانچہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم میں سے کسی کی دعا اس وقت تک قبول کی جاتی ہے جب تک قبولیت دعا کیلئے جلد بازی نہ کرے، اور کہہ دے: “میں نے دعائیں تو بہت کی ہیں، لیکن کوئی قبول ہی نہیں ہوتی”)اسے بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔

 

6- مشیئتِ الہی پر قبولیت دعا کو معلق کرنا: مثال کے طور پر یہ کہنا کہ : “یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے” بلکہ دعا کرنے والے کو چاہئے کہ وہ پر عزم، کامل کوشش، اور الحاح کیساتھ دعا مانگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (تم میں سے کوئی بھی دعا کرتے ہوئے ہرگز یہ مت کہے کہ : “یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے معاف کردے”، “یا اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما” بلکہ پختہ عزم کیساتھ مانگے؛ کیونکہ اللہ تعالی کو کوئی بھی مجبور نہیں کرسکتا)بخاری و مسلم

 

قبولیتِ دعا کیلئے یہ لازمی نہیں کہ ان تمام آداب کو بیک وقت ملحوظِ خاطر رکھے، اور تمام یہ تمام رکاوٹیں بھی نہ ہو، کیونکہ ایسی صورت حال نادر ہی پائی جاتی ہے، لیکن پھر بھی انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق ان آداب کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

 

یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ قبولیتِ دعا کی کئی صورتیں ہیں:

 

• اللہ تعالی بندے کی دعا قبول کرتے ہوئے اسے وہی عنائت کردے جسکی وہ تمنا کرتا ہے۔

 

• یا پھر اس دعا کے بدلے میں کسی شر کو رفع کردیتا ہے۔

 

• یا بندے کے حق میں اسکی دعا سے بہتر چیز میسر فرما دیتا ہے۔

 

• یا اسکی دعا کو قیامت کے دن کیلئے ذخیرہ کردیتا ہے، جہاں پر انسان کو اِسکی انتہائی ضرورت ہوگی۔

 

واللہ اعلم  ورسولہ۔

 

(9) سوال :

اعتقاداتِ اہل سنت کیا ہیں‌ جو ان کو دیگر مسالک سے ممتاز کرتے ہیں؟

 

جواب :

جواب:

 

اہلسنت و الجماعت ان عقائد کو جو ضروریات دین ہیں‘ قرآن و سنت کی قطعی الثبوت و قطعی الدلالت نصوص سے مستنبط کرتے ہیں۔ان عقائد میں کسی مجتہد کی رائے، اجتہاد یا قیاس کو دخل نہیں کیونکہ اساسی عقائد قیاسی یا اجتہادی نہیں ہوتے بلکہ منصوص ہوتے ہیں۔ اہلسنت کے اعتقاد جو ان کو دیگر اعتقادی مذاہب سے جدا کرتے ہیں‘ درج ذیل ہیں:

 

1۔ عقائد اسلامیہ کے مصادر و مراجع تین ہیں: کتاب اللہ، سنت رسول اللہ اور اجماع۔

 

(الفرق بین الفرق: 287)

 

2۔ احکام شرعیہ کے مصادر و مراجع چار ہیں: کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع امت اور قیاس۔

 

(اصول الشاشی: 50)

 

3۔ ماسوی اللہ عالم ہے اور عالم فانی ہے، عالم اللہ کی مخلوق ہے، اور اس عالم کا صانع اللہ ہے۔ اللہ مخلوق، مصنوع یا عالم کی کسی جنس سے نہیں ہے۔

 

4۔ ملائکہ اور جن و شیاطین عالمِ حیوانات کی جنس سے مستقل مخلوقات ہیں اور ان کا وجود ہے، اس کا منکر گمراہ ہے۔

 

5۔ آسمان اور زمین کے سات سات طبقے ہیں۔ {الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا}

 

6۔ عالم کا فنا ہو جانا بطریق قدرت و امکان جائز ہے۔

 

7۔ جنت و جہنم ابدی ہیں۔ جنت و دوزخ مخلوق ہے اور جنت کی نعمتیں اہل جنت پر ہمیشہ رہے گی، اور دوزخ کا عذاب مشرکین، منافقین و کافرین پر ہمیشہ رہے گا۔

 

8۔ تمام حوادث کے لے محدث (وجود میں آنا) ہونا اور صانع کا ہونا ضروری ہے، وہی اعراض کا بھی خالق ہے اور اجسام کا بھی صانع۔ وہ ازلی و ابدی ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہ بے نیاز ہے، نہ اس کی اولاد ہے نہ بیوی۔ اس پر فنا نہیں، اس کو صورت اور اعضاء سے متصف کرنا محال ہے۔ اللہ کو نہ کوئی مکان گھیرے ہوئے ہے اور نہ زمان۔ اللہ پر آفات، رنج و غم، آلام و لذات طاری نہیں ہوتیں۔ حرکت وسکون کا اللہ تعالی سے صدور نہیں۔ اللہ اپنی مخلوق سے کسی قسم کا نفع نہیں حاصل کرتا اور نہ مخلوق کی مدد کا محتاج ہے اور نہ اس کے دفاع میں اپنی ذات سے نقصان کے جیسے مخلوق کی مدد کا محتاج ہے۔ اللہ ایک ہی ہے نہ اس کے مثل کوئی ہے نہ اس کے برابر کوئی ہے۔

 

9۔ اللہ کا علم، قدرت، حیات، ارادہ، سمع، بصر،کلام، سب ازلی ہے۔ اللہ کی تمام مخلوقات پر قدرت واحدہ ہے، اللہ کو اختراع کے طریقہ پر قدرت حاصل ہے نہ کہ اکتساب کے طریقہ پر۔ اللہ کا علم واحد یعنی ایک ہے اور اس سے وہ تمام معلومات کو تفصیل سے جانتا ہے اور اللہ کو علم حسِ بدیہہ اور استد لال سے حاصل نہیں ہوتا۔ اللہ سمع و بصر تمام مسموعات و مرئیات کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ وہ ازل سے اپنے نفس کو دیکھنے والا اور نفس کے کلام کا سننے والا ہے۔

 

10۔ آخرت میں مؤمنین اللہ تعالیٰ کو اس کی شان کے مطابق دیکھیں گے اور وجودِ حق کی زیارت کریں گے۔

 

11۔ اللہ کا ارادہ اس کی مشیت و اختیار سے عبارت ہے، اللہ کا ارادہ اس کی تمام مرادات میں ان سے متعلق اس کے علم کے مطابق نافذ و جاری ہوتا ہے۔ عالم میں چھوٹی بڑی کوئی بھی چیز اس وقت تک وجود میں نہیں آسکتی جب تک اللہ کا ارادہ اس کے وجود میں آ لانے کا نہ ہو، اللہ جیسا چاہتا ہے ویسا ہوتا ہے اور اللہ جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہو تا، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ جو چاہے اس پر راضی بھی ہو اللہ کی رضا اور اللہ کا ارادہ دونوں الگ الگ ہے۔

 

12۔ اللہ کی حیات بلا روح اور بلا کسی غذا کے ہے اور تمام ارواح مخلوق ہیں۔

 

13۔ اللہ تعالیٰ کا کلام صفتِ ازلی ہے، غیر مخلوق اور غیر حادث ہے۔

 

14۔ اللہ تعالیٰ کے اسماء و اوصاف توفیقی ہیں‘ وہی اسماء و اوصاف اللہ پر بولے جائیں جو قرآن یا احادیث صحیحہ میں مذکور ہیں۔ سنت صحیحہ کے رو سے اسماء حسنیٰ ننانوے ہیں، جس نے اس کا احصاء (معنی و مطالب پر اعتقاد رکھتے ہوے اسے یاد کر لیا) کر لیا وہ جنت میں داخل ہو جا ئے گا۔

 

15۔ اسماء حسنی کی تین قسمیں ہیں: (i) وہ اسماء جو اللہ کی ذات اقدس پر دلالت کریں، مثلاً: واحد، اول، آخر، جلیل وغیرہ۔ (ii) وہ اسماء جو صفات ازلیہ پر دلالت کریں، مثلاً: حی، قادر، عالم، مرید، سمیع، بصیر وغیرہ۔ (iii) وہ اسماء و صفات جو اللہ کے افعال سے مشتق ہوں، مثلاً: خالق، رازق، عادل وغیرہ۔

 

16۔ اللہ تعالیٰ اجسام و اعراض اور ان کے خیر و شر کا خالق ہے، وہ بندوں کے اکتساب کا بھی خالق ہے، اللہ تعالیٰ کے سواء کوئی خالق نہیں ہے۔ بندہ اپنے عمل کا مکتسب ہے اور اللہ اس کے کسب کا خالق ہے۔

 

17۔ اللہ تعالی کی جانب سے ہدایت دو وجوہ سے ہوتی ہے: اول وہ ہدایت جو حق کے وضوح اور اس کی ابانت سے وہ اس کی جانب بلانے سے اور اس پر دلائل کے قیام سے حاصل ہوتی ہے۔ اس وجہ کی بناء پر ہدایت کی نسبت رسولوں اور اللہ عزوجل کے دین کی طرف بولانے والے ہر داعی کی جانب کی جاسکتی ہے۔ ہدایت کی دوسری صورت یہ ہے کہ بندوں کے قلوب میں براہ راست قدم زنی کی خواہش پیدا کر دی جائے۔ اس نوع کی ہدایت پر اللہ تعالی کے سوا کو ئی اور قادر نہیں ہے۔ اللہ تعالی کی جانب سے پہلی ہدایت تمام مکلفین کو شامل ہے اور دوسری ہدایت خواص مجتہدین کے لئے ہے۔ اس کی تحقیق کی غرض سے اللہ تعالیٰ لوگوں کو سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے سیدھاراستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالی جس شخص کو گمراہ کرتا ہے عدل کی بناء پر کرتا ہے اور جسے وہ ہدایت دیتا ہے اپنے فضل (مہربانی) سے دیتا ہے۔

 

18۔ آ جال (اجل، موت، مرگ، مدت ، وقت) طبعی موت یا قتل سے مرا وہ اجل ہے جو اللہ تعالی نے اس کی زندگی کے لئے مقرر کی ہے۔ اللہ تعالی آدمی کو زندہ رکھنے اور اس کی عمر میں اضافہ کرنے پر قادر ہے۔

 

19۔ اگر اللہ بندوں کو کسی چیز کا مکلف نہ کرتا تو اس کا عدل ہوتا، تکلیف میں کمی زیادتی بھی اللہ کے لیے روا ہے، اللہ مخلوق کو پیدا نہ کرتا تب بھی حکیم ہوتا۔ اگر اللہ بندوں کو جنت میں پیدا کرتا تو اس کا فضل ہوتا۔ اللہ آمر، ناہی اور حاکم مطلق ہے۔

 

20۔ مخلوق کی جانب انبیاء و رُسل کا بھیجنا اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، نبوت و رسالت وہبی ہے کسبی نہیں۔

 

21۔ ہر وہ شخص جس پر اللہ کی جانب سے کسی فرشتہ کے توسط سے وحی نازل ہوتی ہے اور ایسے معجزات کے ذریعہ جو خرق عادت ہوں اللہ تعالی نے اسے تائید عطاء فرمائی ہو وہ نبی ہے۔ اور جس شخص کو یہ تمام باتیں عطاء کی گئی ہوں اور ان کے ساتھ ساتھ اسے نئی شریعت دی گئی ہو یا پہلے سے موجود شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا ہو وہ رسول ہے۔

 

22۔ انبیاء کی تعداد بہت زیادہ ہے مگر ان میں سے رسول صرف (313) ہیں۔ اول الرسل تمام انسانوں کے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور آخری رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہر مدعئ نبوت کی تکفیر کی جائے گی۔

 

23۔ نبی کے لئے ایک معجزہ لانا ضروری ہے، جو اس کے دعوی نبوت کی سچائی کی دلیل ہو۔ سو جب ایک معجزہ ظاہر ہو جائے کہ نبی کی صداقت کی دلیل ہوا اور لوگ اس جیسا معجزہ لانے سے عاجز ہوں، لوگوں پر اس نبی کی تصدیق کی حجت واجب ہو جائے گی اور اس کی اطاعت ان پر لازم ٹھہرے گی۔ اگر اس کے بعد بھی اس معجزہ کے علاوہ لوگ کسی اور معجزہ کا مطالبہ کریں اللہ عز وجل پر منحصر ہے اگر اس کی مشیت ہوئی تو اس دوسرے معجزہ سے وہ نبی کو قوی دست کرے گا اور اگر اس کا ارادہ ہو گا تو اس دوسرے معجزہ کے طلب کرنے والوں کی گرفت کرے گا اور انہیں اس جرم کی سزادے گا کہ اس نبی کی سچائی کی جو دلیل ظاہر ہو گئی ہے اس پر وہ ایمان نہ لائے۔

 

24۔ اولیاءاللہ سے کرامات کا ظہور جائز ہے۔ یہ کرامات ان کے احوال کی سچائی کی دلیل ہوتی ہیں۔ صاحب معجزہ (نبی ورسول)پر معجزہ کو ظاہر کرنا اور اس سے مخالفوں سے معارضہ و تحدی کرنا ہے جبکہ صاحب کرامت (ولی) اپنی کرامت سے کسی تحدی نہیں کرتا، بلکہ اکثر اسے لوگوں سے پوشیدہ رکھتا ہے۔ ا سی طرح صاحب المعجزہ کا انجام اور عاقبت مامون و محفوظ ہوتی ہے، صاحب کرامت ابپے انجام کے متغیر ہو جانے سے محفوظ نہیں ہوتا۔

 

25۔ قرآن کریم ایک معجزہ ہے اور یہ معجزہ ’نظم قرآن ‘ (اسلوب، انداز، ترتیب )ہے۔

 

26۔ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے معجزہ شق القمر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں کنکریوں کا اللہ تعالی کی پاکی بیان کرنا ہے، تھوڑے کھانے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت سے لوگوں کو سیر کرناہے، اور اس جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات بکثرت ہیں۔

 

27۔ اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے۔ یہ گواہی کہ اللہ تعا لی کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ سلم اللہ کے آخری رسول ہیں، قیام صلوۃ، ایتائے زکوۃ، صومِ رمضان اور حج بیت الحرام۔ ارکان کاسقوط و تاویل کفر ہے۔ جس کسی نے ان پانچ ارکان میں سے کسی رکن کے وجوب کو سا قط کر دیا، کسی قوم کی دوستی اور ان کی موالات کے معانی پر ان کی تاویل کی وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

 

27۔ صلوۃ مفروضہ پانچ وقت کی ہیں۔ جس نے بھی ان میں کسی کو ساقط کیا وہ کافر ہے۔ صلاۃ جمعہ کا منعقد کرنا واجب ہے۔

 

28۔ اعیان میں سے سونے، چاندی، اونٹ، گائے، بیل (بھینس) اور بھیڑ، بکری میں زکوٰۃ واجب ہے، ان جانوروں کا چرنے والا ہونا ضروری ہے، اسی طرح زکوۃ غذائی اجناس میں، جن کو لوگ کاشت کرتے ہیں اور انہیں غذا کے کے طور پر استعمال کرتے ہیں واجب ہے۔ کھجور اور انگور کے پھلوں پر بھی زکوٰۃ واجب ہے۔

 

29۔ صوم رمضان واجب ہے اور اوقات صیام میں اس کے توڑنے کو کسی عذر کے بغیر یا صغر سنی یا دیوانگی یا بیماری یا سفر یا ایسی دوسری مجبوریوں کے علاوہ‘ حرام ہے۔ماہِ رمضان کا اعتبار ہلال رمضان کی رؤیت سے یا ماہ شعبان کے تیس دن پورے ہو جانے پر ہوگا۔

 

30۔ زندگی میں ایک مرتبہ اس آدمی پر حج فرض ہے جس میں مکہ تک جانے کی استطاعت ہو۔ حج کو ساقط کرنا کفر ہے، البتہ عمرہ کا وجوب ساقط کرنے سے کفر مستلزم نہیں ہوتا کیونکہ وجوب عمرہ کے بارے میں امت میں اختلاف رائے ہے۔

 

31۔ صلوت کے صحیح ہونے کے لئے حسب امکان طہارت، ستر عورت، وقت مقررہ اور قبلہ کی جانب منہ کرنا شرائط ہیں۔

 

32۔ اعدائے اسلام کے خلاف جہاد لازم ہے۔

 

33۔ بیع (خرید و فروخت) جائز و حلال ہے مگر رباء (سود) حرام ہے، جو رباء کو مجملا ً بھی مباح سمجھتا ہو وہ گمراہ ہے۔

 

34۔ شرمگاہ نکاحِ صحیح یا مِلکِ یمین کے سوا مباح نہیں ہے۔

 

35۔ زنا، سرقہ، شراب خواری اور قذف (بہتان طرازی) میں حد شرعی جاری کرنا واجب ہے۔

 

36۔ مکلفین کے افعال کی پانچ اقسام ہیں: واجب، محظور، مسنون، مکروہ اور مباح۔ لیکن بہائم، اطفال اور مجانین (مجنون، پاگل ) کے افعال کا اباحت، وجوب اور خطرے سے کوئی واسطہ نہیں اور انہیں کسی حال میں ان سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔

 

37۔ مکلفین پر معر فت، قو ل یا فعل سے متعلق تمام وہ امور جو واجب ہو تے ہیں، وہ ان پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے واجب ہوتے ہیں اور ہر وہ امر جس کا کرنا مکلفین کے لئے ممنوع ہے، ایسا اللہ تعالی کی ممانعت کے باعث ہوتا ہے۔ اگر بندوں پر اللہ تعالی کی جانب سے امر و نہی کا حکم وارد نہ ہوتا، تو ان پر کچھ بھی واجب نہ ہو تا اور نہ ان پر کو ئی چیز حرام ہی ہوتی۔

 

38۔ اہل سنت، سوال منکر نکیر اور عذاب قبر کو بر حق قرار دیتے ہیں۔

 

39۔ حوض کوثر، صراط یعنی پل صراط، میزان یعنی وزن اعمال کے برپا ہونا حق ہے اور اس کا منکر گمراہ ہے۔قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ سلم اور آپ کی امت کے علماء و صلحاء گناہگار مسلمانوں کی شفاعت کریں گے۔

 

40۔ مسلمانوں کے نظمِ اجتماعی کا قیام اور امام کا تقرر واجب ہے، اس کی بنیاد شورایت، عدالت اور علم ہے۔

 

41۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلیفہ برحق ہیں اور آپ صحابہ میں سب سے افضل ہیں۔

 

42۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم امام بر حق ہیں اور جنگ جمل، جنگ صفین و نہروان میں آپ بر سرِ صواب تھے۔ آپ کے دیگر مخالفین اجتہاد ی غلطی پر تھے، البتہ نہروان میں خوارج صریح غلطی و بطلان پر تھے۔

 

43۔ تمام صحابہ عادل ہیں، ان میں سے کسی ایک کی بھی تکفیر یا فاسق و فاجر ہونے کا خیال گمراہی ہے۔ صحابہ کرام میں ’عشرہ مبشرہ‘ یقینی طور پر جنتی ہیں۔ تمام ازواج مطہرات کی موالات لازم ہے۔ اسی طرح آلِ رسول سے موالات ضروری ہے۔

 

44۔ کسی مسلمان کا قتل صرف تین حالتوں میں جائز ہے: مرتد، شادی شدہ زانی، بےگناہ کا قاتل۔

 

45۔ ملائکہ گناہوں سے معصوم ہیں۔

 

46۔ احادیثِ صحیحہ کی رو سے امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ستر ہزار (70000)اشخاص کسی حساب کتاب کے بغیر بخش دیئے جائیں گے اور جنت میں داخل کر لئے جائیں گے۔ ان میں سے ہر ایک شخص سترہزار (70000)اہل ایمان کی شفاعت کرے گا۔ اس گروہ میں حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ بھی داخل ہیں۔

 

47۔ بت پرست کسی خاص انسان کے پرستار، ہر حسین و جمیل چیز کے پو جاری، چاند سورج کی عبادت کرنے والے، ستاروں کی پرستش کر نے والے، ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہنے والے، شیطان کے پجاری، گاؤ ماتا کی پوجا کرنے والے، آگ کی عبادت کرنے والے؛ یہ سب کفار مشرکین ہیں۔ مسلمان کے لیے ان کے ذبیحے، ان کی عورتوں سے نکاح اور عبادات و ریاضات میں ان کی مشابہت اختیار کرنا حرام ہے۔

 

48۔ اہل کتاب یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ حلال ہے۔

 

49۔ خواہش نفسانی کے پیرو کار اسلام کی جانب اپنے انتساب کے باوجود گمراہ اور بد عقیدہ ہیں۔

 

50۔ اہل السنت آپس میں ایک دوسرے کو کافر نہیں کہتے۔ ان کے درمیان ایسے اختلافات نہیں ہیں جن سے برات اور تکفیر لازم آتی ہو۔ یہ اس جماعت سے وابستہ ہیں جو حق کے ساتھ قائم ہے اور اللہ تعالی حق اور اہل حق کی حفاظت کرتا ہے۔اسی لئے یہ لوگ ایک دوسرے کوبرے الفاظ سے یاد نہیں کرتے اور نہ ایک دوسرے کا توڑ کرتے ہیں۔

 

مزید وضاحت کے لیے ملاحظہ کیجیے: مسلکِ اہلِ سنت و الجماعت کو شخصیات سے منسوب کرنا کیسا ہے؟

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

 

(10) سوال :

قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب درکار ہے کہ عمل پہلے ہے یا عقائد پہلے ہیں؟ اگر کسی کے عمل بہت اچھے ہوں وہ جنت میں جائے گا یا جس کے عقائد بہت اچھے ہوں؟ جیسا کہ عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ کیا عمل کا دارومدار عقائد پر ہے؟

 

جواب :

جواب:

 

عقائد پہلے ہیں، پھر اعمال ہیں۔ عقائد اور اعمال دونوں کا اچھا ہونا اور صحیح ہونا ضروری ہے۔ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ عقائد کی مثال جڑ کی طرح ہے اور نیت بیچ کی مانند، جبکہ ٹہنیاں، پھل یہ اعمال صالحہ ہیں۔ انسان جو بیچ ڈالے گا ویسے ہی ثمرات ملیں گے۔ عقائد اچھے اور درست ہوئے تو انسان جو اعمال صالحہ کرے گا، اس کے ثمرات بھی بہتر اور مفید ہوں گے۔ اگر عقائد درست اور صحیح نہ ہوئے تو اس کے ثمرات بھی درست نہ ہونگے۔

 

اگر انسان نے نفاق کا بیچ ڈالا تو اس کے ثمرات بھی ویسے ہی ہونگے۔ عقائد کا درست ہونا ضروری ہے اور عقائد کا پہلے ہونا بھی ضروری ہے۔ بغیر عقیدہ صحیحہ کے اعمال قابل قبول نہیں ہونگے۔ کفار و مشرکین، یہود و نصاریٰ، غیر مسلمین بھی بہت اچھے اور نیک اعمال کرتے ہیں۔ صدقہ و خیرات کرتے ہیں لیکن یہ سب نیک اعمال کرنے کے باوجود وہ جہنم میں جائیں گے۔ کیونکہ ان کا عقیدہ صحیح نہیں ہے۔ لہذا نیک اعمال اسی وقت مفید ثابت ہونگے جب عقیدہ صحیح ہوگا۔

 

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔