عبادات کے متعلق سوالات

  • Admin
  • May 17, 2021

سوال :

عبادت اور پوجا میں کیا فرق ہے؟

جواب :

عِبادَت عربی زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنیٰ غلامی و بندگی اور انتہائی درجے کی عاجزی و انکساری ہے۔ اصطلاحاً خدائے واحد کی پرستش یا مذہبی ارکان جو خدا کی اطاعت اور پرستش کے لیے ادا کیے جائیں، عبادت کہلاتے ہیں۔ عام طور پر خدائے واحد کے احکام ماننے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ پُوجا سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کا لغوی معنیٰ پرستش ہے۔ عام طور پر بتوں بت پرستی یا بتوں کی تعظیم و تکریم کے آداب و رسوم کو پوجا کا نام دیا جاتا ہے۔

عبادت اور پوجا اگرچہ مترادف سمجھے جاتے ہیں مگر ان میں ایک بنیادی فرق ہے۔ پوجا لفظ کا اپنے تمام تر مفہوم میں نے بھی خدا کی پرستش تک محدود ہے جبکہ اسلام کا تصورِ عبادت بہت وسیع ہے۔ قرآن مجید عبادت مفہوم بیان کرتے ہوئے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو اس میں شامل کیا ہے۔

چنانچہ ارشادِ ربانی ہے:

وَاعْبُدُواْ اللّٰہَ وَلاَ تُشْرِکُواْ بِهِ شَیْئاً وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَاناً وَبِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَالْجَارِ ذِیْ الْقُرْبَی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالجَنبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُحِبُّ مَن کَانَ مُخْتَالاً فَخُوراً.

’’اور تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں (سے) اور نزدیکی ہمسائے اور اجنبی پڑوسی اور ہم مجلس اور مسافر (سے)، اور جن کے تم مالک ہو چکے ہو، (ان سے نیکی کیا کرو)، بیشک اللہ اس شخص کو پسند نہیں کرتا جو تکبرّ کرنے والا (مغرور) فخر کرنے والا (خود بین) ہو۔‘‘

(نساء، 3: 36)

قوم شعیب کے ناقص تصور عبادت کو بیان کرتے ہوئے سیدنا شعیب علیہ السلام کے ذریعے ان کے مالی معاملات میں انصاف سے کام لینے کو بھی عبادت کا حصہ قرار دیا ہے:

وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَـهٍ غَيْرُهُ وَلاَ تَنقُصُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ إِنِّيَ أَرَاكُم بِخَيْرٍ وَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ مُّحِيطٍ. وَيَا قَوْمِ أَوْفُواْ الْمِكْيَالَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ.

’’اور (ہم نے اہلِ) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام کو بھیجا)، انہوں نے کہا: اے میری قوم! اﷲ کی عبادت کرو تمہارے لئے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، اور ناپ اور تول میں کمی مت کیا کرو بیشک میں تمہیں آسودہ حال دیکھتا ہوں اور میں تم پر ایسے دن کے عذاب کا خوف (محسوس) کرتا ہوں جو (تمہیں) گھیر لینے والا ہے۔ اور اے میری قوم! تم ناپ اور تول انصاف کے ساتھ پورے کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر نہ دیا کرو اور فساد کرنے والے بن کر ملک میں تباہی مت مچاتے پھرو۔‘‘

فی الحقیقت اسلام میں انسان کا ہر نیک عمل عبادت اور باعث اجر ہے، خواہ وہ عمل بادی النظرمیں بالکل حقیر ہو، سراسر دنیا کا کام معلوم ہوتا ہو، بشرطیکہ اس عمل سے خدا کی رضا اور اس کا تقرب مطلوب ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد شبیر قادری

 سوال :

السلام علیکم میرا سوال ایک مکتب فکر کے بارے میں ہے کہ کیا رفع الیدین نہ کرنے کے بارے میں‌ کوئی حدیث ہے؟ اگر ہے تو اس کا حوالہ بتائیں اور رفع الیدین کے بارے میں احادیث کتنی ہیں اور ان کی کیا اہمیت ہے۔ برائے مہربانی تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔

جواب :

(تکبیرِ اُولیٰ کے علاوہ نماز میں رفع یدین نہ کرنے کا بیان)

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رضي الله عنه قَالَ : صَلَّي مَعَ عَلِيٍّ رضي الله عنه بِالْبَصْرَةِ، فَقَالَ : ذَکَّرَنَا هَذَا الرَّجُلُ صَلَاَةً، کُنَّا نُصَلِّيهَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، فَذَکَرَ أَنَّهُ کَانَ يُکَبِّرُ کُلَّمَا رَفَعَ وَکُلَّمَا وَضَعَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 271، الرقم : 751، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 78، الرقم : 2326، والبزار في المسند، 9 / 26، الرقم : 3532.

’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ میں نماز پڑھی تو انہوں نے ہمیں وہ نماز یاد کروا دی جو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ (یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ) جب بھی اٹھتے اور جھکتے تو تکبیر کہا کرتے تھے۔‘‘

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه أَنَّهُ کَانَ يُصَلِّي لَهُمْ، فَيُکَبِّرُ کُلَّمَا خَفَضَ وَرَفَعَ، فَإِذَا انْصَرَفَ قَالَ : إِنِّي لَأَشْبَهُکُمْ صَلَاةً بِرَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 272، الرقم : 752، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : اثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم : 392، والنسائي في السنن، کتاب : التطبيق، باب : التکبير للنهوض، 2 / 235، الرقم : 1155، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 236، الرقم : 7219، ومالک في الموطأ، 1 / 76، الرقم : 166، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 221.

’’حضرت ابو سلمہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ انہیں نماز پڑھایا کرتے تھے، وہ جب بھی جھکتے اور اٹھتے تو تکبیر کہتے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا : تم میں سے میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔‘‘

عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضي الله عنه، أَنَا وَعِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، فَکَانَ إِذَا سَجَدَ کَبَّرَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأسَهُ کَبَّرَ، وَإِذَا نَهَضَ مِنَ الرَّکْعَتَيْنِ کَبَّرَ، فَلَمَّا قَضَي الصَّلَاةَ، أَخَذَ بِيَدِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ فَقَالَ : قَدْ ذَکَّرَنِي هَذَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم، أَوْ قَالَ : لَقَدْ صَلَّي بِنَا صَلَاةَ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وآله وسلم. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : إتمام التکبير في السجود، 1 / 272، الرقم : 753، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 295، الرقم : 393، وأحمد بن حنبل في المسند، 4 / 444.

’’حضرت مطرف بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی جب انہوں نے سجدہ کیا تو تکبیر کہی جب سر اٹھایا تو تکبیر کہی اور جب دو رکعتوں سے اٹھے تو تکبیر کہی۔ جب نماز مکمل ہو گئی تو حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز یاد کرا دی ہے (یا فرمایا : ) انہوں نے مجھے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز جیسی نماز پڑھائی ہے۔‘‘

عَنْ أَبِي بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه يَقُولُ : کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذَا قَامَ إِلَي الصَّلَاةِ، يُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْکَعُ، ثُمَّ يَقُوْلُ : (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ). حِينَ يَرْفَعُ صُلْبَهُ مِنَ الرَّکْعَةِ. ثُمَّ يَقُوْلُ وَهُوَ قَائِمٌ : (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ). قَالَ عَبْدُ اﷲِ : (وَلَکَ الْحَمْدُ). ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَهْوِي، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأسَهُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأسَهُ، ثُمَّ يَفْعَلُ ذَلِکَ فِي الصَّلَاةِ کُلِّهَا حَتَّي يَقْضِيَهَا، وَ يُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ مِنَ الثِّنْتَيْنِ بَعْدَ الْجُلُوْسِ.

مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : التکبير إذا قام من السجود، 1 / 272، الرقم : 756، ومسلم في الصحيح، کتاب : الصلاة، باب : إثبات التکبير في کل خفض ورفع في الصلاة، 1 / 293، الرقم : 392.

’’حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو کھڑے ہوتے وقت تکبیر کہتے پھر رکوع کرتے وقت تکبیر کہتے پھر (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے جب کہ رکوع سے اپنی پشت مبارک کو سیدھا کرتے پھر سیدھے کھڑے ہوکر (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جھکتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر سجدہ کرتے وقت تکبیر کہتے پھر سجدے سے سر اٹھاتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر ساری نماز میں اسی طرح کرتے یہاں تک کہ پوری ہوجاتی اور جب دو رکعتوں کے آخر میں بیٹھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے۔‘‘

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رضي الله عنه کَانَ يُکَبِّرُ فِي کُلِّ صًلَاةٍ مِنَ الْمَکْتُوبَةِ وَغَيْرِهَا، فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَرْکَعُ، ثُمَّ يَقُوْلُ : (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ)، ثُمَّ يَقُوْلُ : (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ)، قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ، ثُمَّ يَقُوْلُ : (اﷲُ أَکْبَرُ)، حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رَأسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِيْنَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِيْنَ يَرْفَعُ رأسَهُ مِنَ السُّجُوْدِ، ثُمَّ يُکَبِّرُ حِينَ يَقُوْمُ مِنَ الْجُلُوْسِ فِي الاِثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِکَ فِي کُلِّ رَکْعَةٍ، حَتَّي يَفْرُغَ مِنَ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَقُوْلُ حِينَ يَنْصَرِفُ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُکُمْ شَبَهًا بِصَلَاةِ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم، إِنْ کَانَتْ هَذِهِ لَصَلَاتَهُ حَتَّي فَارَقَ الدُّنْيَا.

رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : يهوي بالتکبير حين يسجد، 1 / 276، الرقم : 770، وأبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : تمام التکبير، 1 / 221، الرقم : 836.

’’ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے خواہ وہ فرض ہوتی یا دوسری، ماہِ رمضان میں ہوتی یا اس کے علاوہ جب کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور جب رکوع کرتے تو تکبیر کہتے۔ پھر (سَمِعَ اﷲُ لِمَنْ حَمِدَهُ) کہتے۔ پھر سجدہ کرنے سے پہلے (رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ) کہتے۔ پھر جب سجدے کے لئے جھکتے تو (اَﷲُ اَکْبَرُ) کہتے۔ پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تو تکبیر کہتے، پھر جب سجدے سے سر اٹھاتے تو تکبیر کہتے، پھر جب دوسری رکعت کے قعدہ سے اٹھتے تو تکبیر کہتے، اور ہر رکعت میں ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ نماز سے فارغ ہو جاتے۔ پھر فارغ ہونے پر فرماتے : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! تم سب میں سے میری نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کے ساتھ زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تادمِ وِصال اسی طریقہ پر نماز ادا کی۔‘‘

عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ مالِکَ ابْنَ الْحُوَيْرِثِ رضي الله عنه قَالَ لِأَصْحَابِهِ : أَلَا أنَبِّئُکُمْ صَلَاةَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم؟ قَالَ : وَذَاکَ فِي غَيْرِ حِينِ صَلَاةٍ، فَقَامَ، ثُمَّ رَکَعَ فَکَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأسَهُ، فَقَامَ هُنَيَةً، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأسَهُ هُنَيَةً، فَصَلَّي صَلَاةَ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ شَيْخِنَا هَذَا. قَالَ أَيُّوْبُ : کَانَ يَفْعَلُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُمْ يَفْعَلُونَهُ، کَانَ يَقْعُدُ فِي الثَّالِثَةِ وَالرَّابِعَةِ. قَالَ : فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صلي الله عليه وآله وسلم فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ : لَوْ رَجَعْتُمْ إِلَي أَهْلِيکُمْ، صَلُّوْا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينٍ کَذَا، صَلُّوْا صَلَاةَ کَذَا فِي حِينٍ کَذَا، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُکُمْ، وَلْيَؤُمَّکُمْ أَکْبَرُکُمْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : صفة الصلاة، باب : المکث بين السجدتين إتمام التکبير في الرکوع، 1 / 282، الرقم : 785.

’’حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ بتاؤں؟ اور یہ نماز کے معینہ اوقات کے علاوہ کی بات ہے۔ سو انہوں نے قیام کیا، پھر رکوع کیا تو تکبیر کہی پھر سر اٹھایا تو تھوڑی دیر کھڑے رہے۔ پھر سجدہ کیا، پھر تھوڑی دیر سر اٹھائے رکھا پھر سجدہ کیا۔ پھر تھوڑی دیر سر اٹھائے رکھا۔ انہوں نے ہمارے ان بزرگ حضرت عمرو بن سلمہ کی طرح نماز پڑھی۔ ایوب کا بیان ہے وہ ایک کام ایسا کرتے جو میں نے کسی کو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ دوسری اور چوتھی رکعت میں بیٹھا کرتے تھے۔ فرمایا : ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ٹھہرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ تو فلاں نماز فلاں وقت میں پڑھنا۔ جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے اور جو بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔‘‘

عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اﷲِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه : أَلاَ أصَلِّي بِکُمْ صَلَاةَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم ؟ قَالَ : فَصَلَّي فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً.

رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَالنَّسَائِيُّ وَزَادَ : ثُمَّ لَمْ يُعِدْ.

وَقَالَ أَبُوْعِيْسَي : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ.

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : التطبيق، باب : من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 286، الرقم : 748، والترمذي في السنن، کتاب : الصلاة عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، باب : رفع اليدين عند الرکوع، 1 / 297، الرقم : 257، والنسائي في السنن، کتاب : الافتتاح، باب : ترک ذلک، 2 / 131، الرقم : 1026، وفي السنن الکبري، 1 / 221، 351، الرقم : 645، 1099، وأحمد بن حنبل في المسند، 1 / 388، 441، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم : 2441.

’’حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں؟ راوی کہتے ہیں : پھر اُنہوں نے نماز پڑھائی اور ایک مرتبہ کے سوا اپنے ہاتھ نہ اٹھائے۔‘‘ امام نسائی کی بیان کردہ روایت میں ہے : ’’پھر انہوں نے ہاتھ نہ اٹھائے۔‘‘

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَخَالِدُ بْنُ عَمْرٍو وَ أَبُوْحُذَيْفَةَ رضي الله عنهم، قَالُوْا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِإِسْنَادِهِ بِهَذَا، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ مَرَّةٍ، وَ قَالَ بَعْضُهُمْ : مَرَّةً وَاحِدَةً. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : التطبيق، باب : من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 286، الرقم : 749.

’’حضرت حسن بن علی، معاویہ، خالد بن عمرو اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنھم روایت کرتے ہیں کہ سفیان نے اپنی سند کے ساتھ ہم سے حدیث بیان کی (کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) پہلی دفعہ ہی ہاتھ اٹھائے، اور بعض نے کہا : ایک ہی مرتبہ ہاتھ اٹھائے۔‘‘

عَنِ الْبَرَاءِ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَي قَرِيْبٍ مِنْ أذُنَيْهِ ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ.

أخرجه أبوداود في السنن، کتاب : الصلاة، باب : من لم يذکر الرفع عند الرکوع، 1 / 287، الرقم : 750، وعبد الرزاق في المصنف، 2 / 70، الرقم : 2530، وابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم : 2440، والدارقطني في السنن، 1 / 293، والطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 253، الرقم : 1131.

’’حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاتے، اور پھر ایسا نہ کرتے۔‘‘

عَنِ الْأَسْوَدِ أَنَّ عَبْدَ اﷲِ بْنَ مَسْعُوْدٍ رضي الله عنه کَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ التَّکْبِيْرِ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ إِلَي شَيءٍ مِنْ ذَلِکَ. وَيَأثِرُ ذَلِکَ عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم. رَوَاهُ أَبُوْحَنِيْفَةَ.

أخرجه الخوارزمي في جامع المسانيد، 1 / 355.

’’حضرت اسود روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ اُٹھاتے تھے، پھر نماز میں کسی اور جگہ ہاتھ نہ اٹھاتے اور یہ عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا کرتے۔‘‘

عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضي الله عنه قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ رضي اﷲ عنهما، فَلَمْ يَرْفَعُوْا أَيْدِيَهِم إِلَّا عِنْدَ اسْتِفْتَاحِ الصَّلَاةِ.

رَوَاهُ الدَّارُقُطْنِيُّ.

أخرجه الدارقطني في السنن، 1 / 295، وأبويعلي في المسند، 8 / 453، الرقم : 5039، والبيهقي في السنن الکبري، 2 / 79، والهيثمي في مجمع الزوائد، 2 / 101.

’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اﷲ عنہما کے ساتھ نماز پڑھی، یہ سب حضرات صرف نماز کے شروع میں ہی اپنے ہاتھ بلند کرتے تھے۔‘‘

عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّي يُحَاذِيَ بِهِمَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : حَذْوَ مَنْکَبَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ، وَبَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأسَهُ مِنَ الرُّکُوْعِ، لَا يَرْفَعُهُمَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : وَلَا يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ. رَوَاهُ أَبُوْعَوَانَةَ.

أخرجه أبو عوانة في المسند، 1 / 423، الرقم : 1572.

’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز شروع کرتے وقت اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرنا چاہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے، اور بعض نے کہا دونوں سجدوں کے درمیان (ہاتھ) نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘

عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ : رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عنه يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي أَوَّلِ تَکْبِيْرَةٍ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ.

أخرجه الطحاوي في شرح معاني الآثار، 1 / 294، الرقم : 1329.

’’حضرت اسود بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نماز ادا کرتے دیکھا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ تکبیر تحریمہ کہتے وقت دونوں ہاتھ اٹھاتے، پھر (بقیہ نماز میں ہاتھ) نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘

عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ عَلِيًا رضي الله عنه کَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُوْدُ. رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ.

الحديث رقم 27 : أخرجه ابن أبي شيبة في المصنف، 1 / 213، الرقم : 2444.

’’عاصم بن کلیب اپنے والد کلیب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ میں ہی ہاتھوں کو اٹھاتے تھے پھر دورانِ نماز میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

 سوال :

مذہب میں عبادات کرنے کا بنیادی فلسفہ کیا ہے؟

جواب :

مذہب میں عبادات کرنے کا بنیادی فلسفہ کیا ہے عبادات کا مقصد کیا ہے اور معاشرے پر اس کے اثرات کیا ہیں وہ درج ذیل ہیں۔ یہی تمام عبادات کا فلسفہ اور مقصد ہے۔

عقیدے کی صحت

طہارت

اتحاد

یگانگت

اخوت وبھائی چارہ

ایک دوسرے کے احوال سے واقفیت

دکھ درد میں شریک ہونا

خوشی و فرحت میں شریک ہونا

آپس میں باہمی تعاون کرنا

اجتماعیت کا ہونا

تقوی

صبر و شکر

ایثار و قربانی

تزکیہ نفس

رضائے الہی کا حصول وغیرہ

اس کے علاوہ بے شمار فوائد وثمرات ہیں جن کا ہم اپنی روزمرہ زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں۔ درج بالا چند ایک چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ روزمرہ زندگی میں جتنی بھی عبادات ہم کرتے ہیں یا دین اسلام میں فرض ہیں یہ ساری چیزیں کسی نہ کسی عبادت میں پائی جاتی ہیں اور یہی تمام عبادات کے فرض کرنے کا بنیادی فلسفہ ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

سوال :

نماز میں درود ابراہیمی پڑھنے کی ابتداء کب ہوئی؟

جواب :

نماز میں درود ابراہیمی پڑھنے کی ابتداء حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے زمانہ اقدس میں ہوئی۔ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے سامنے بیٹھ گیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام پڑھنے کا طریقہ تو ہم پہچان گئے یعنی تشہد میں السلام عليک ايها النبی و رحمة الله و برکاته لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوۃ (درود) بھیجنے کا کیا طریقہ ہے کہ جب ہم اپنی نماز میں ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر صلوۃ کیسے پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے حتی کہ ہم نے چاہا کہ یہ آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال نہ ہی کرتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم مجھ پر درود بھیجو تو یوں کہو:

اللهم صل علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما صليت علٰی اِبراهيم وعلٰی آل اِبراهيم اِنک حميد مجيد

اللهم بارک علٰی محمد وعلٰی آل محمد کما بارکت علٰی اِبراهيم وعلٰی آل اِبراهيم انک حميد مجيد.

سنن الترمذی 1 / 179

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

سوال :

السلام علیکم – نماز فجر مغرب وعشاء جہری اور نماز ظہر وعصر سری پڑھنی کی حکمت اور مصلحت کیا ہے؟

جواب :

پہلی بات یہ کہ یہ امور تعبدی ہیں یعنی جیسے شارع علیہ السلام نے ان کو ادا کرنے کا حکم دیا ویسے ہی ان کو بغیر کسی تبدیلی اور شک وشبہ کے ادا کرنا چاہے۔ ہمیں اس کی حکمت ومصلحت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ جہری اور سری نمازوں کو ادا کرنے کا حکم ہے، اس لئے بغیر کسی شک وشبہ کے ان پر عمل کیا جائے گا جیسے ہمیں حکم ملا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اس کی جو حکمت ومصلحت بیان کی گئی ہے وہ یہ کہ قرآن میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :

وَلاَ تَجْهَرْ بِصَلاَتِكَ وَلاَ تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلاً

(الْإِسْرَاء – – بَنِيْ إِسْرَآءِيْل، 17 : 110)

اور نہ اپنی نماز (میں قرات) بلند آواز سے کریں اور نہ بالکل آہستہ پڑھیں اور دونوں کے درمیان (معتدل) راستہ اختیار فرمائیںo

ہمیں درمیانی راستہ اپنانے کا حکم دیا گیا کیونکہ شروع میں جب مسلمان نماز پڑھتے تو ساری نمازوں میں اونچی آواز سے قرات کرتے تھے اور کفار کو یہ پسند نہ تھا لہذا وہ مسلمانوں کے قریب آ کر شور وغل کرتے، سیٹیاں بجاتے اور مسلمانوں کو نماز ادا نہیں کرنے دیتے۔ اللہ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہتے، گستاخی کرتے اور توہین کرتے تھے۔ اس لئے اللہ تعالی نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ نہ تو اتنی اونچی آواز میں پڑھو کہ کفار سن کر بے ادبی وگستاخی کریں اور نہ اتنا آہستہ پڑھو کہ تم خود بھی نہ سن سکو۔ لہذا درمیانی آواز میں قرات کر لیا کرو۔

تیسری بات یہ کہ فجر اور عشاء کے وقت کفار سوئے ہوتے تھے اور مغرب کے وقت کھانے پینے میں مشغول ہوتے تھے اس لئے ان تین اوقات میں حکم دیا کہ جہرا ًنماز ادا کی جائے کیونکہ کفار ان اوقات میں کھانے پینے اور سونے میں مشغول ہوتے ہیں مسلمانوں کو تنگ نہیں کر سکتے، لہذا جہرا نماز کا حکم دیا گیا۔ ظہر اور عصر کے وقت کفار دن بھر گھومتے رہتے تھے۔ اس لئے ان نمازوں میں آہستہ آواز سے پڑھنے کا حکم دیا تاکہ کفار مسلمانوں کو تنگ نہ کر سکیں اور قرات کی آواز سن کر سیٹیاں اور شور وغل نہ کر سکیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

 سوال :

السلام علیکیم اللہ نے فرشتوں کو جس طرح اپنی عبادت کرنے کو کہا وہ ویسی ہی عبادت کر رہے ہیں مگر انسانوں کو جیسے عبادت کرنے کا کہا وہ اس طرح نہیں کر رہے ہیں کیا وجہ ہے؟

جواب :

اللہ تعالیٰ کی کاملاً عبادت کے حوالے سے حدیث جبرائیل میں بتایا گیا ہے۔ جیسے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو، اگر ایسے نہ کر سکو یعنی تم اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ سکو تو یہ خیال ذہن نشین رہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ تم کو دیکھ رہا ہے۔

پوری توجہ اور انہماک سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہیے، نماز کا ترجمہ یاد ہونا چاہیے، جو سورتیں بھی نماز کے اندر تلاوت کریں، ان کا ترجمہ بھی یاد ہو، تاکہ انسان الفاظ کے معانی پر پوری توجہ اور انہماک رکھے تاکہ اس کا دھیان اِدھر اُدھر نہ بھٹکے۔ یعنی انسان کو پوری کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنے دھیان کو ادھر ادھر نہ بھٹکنے دے۔

اس کے علاوہ اگر انسان کے دل میں خیالات، وسوسے آتے ہیں تو اس پر انسان کنٹرول نہیں کر سکتا، انسان کا ان پر اختیار نہیں ہے۔ ایسی ساری چیزیں جو فقط خیالات اور وسوسے ہی ہیں، انسان کو معاف ہیں۔

انسان کا فرشتوں کے ساتھ موازانہ کرنا ہی غلط ہے،  قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا

(الْبَقَرَة ، 2 : 286)

اﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا،

لہذا انسان کو اس کی طاقت کے مطابق مکلف ٹھہرایا گیا ہے، اس کو خیالات اور وسوسے آتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہیں کرتا، اس کے نامہ اعمال میں کچھ نہیں لکھا جاتا، یہ معاف ہیں۔

ان خیالات اور وسوسوں سے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پاک اور منزہ رکھا ہے۔ اس لیے ان کا دھیان کسی طرف بھٹکتا نہیں ہے، وہ عبادت میں ہی مگن رہتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

سوال :

ایسی شرٹ پہن کر باجماعت نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے، جس پر ایسی نمایاں تحریر لکھی ہو کہ پچھلی صف میں کھڑے نمازیوں سے باآسانی پڑھی جائے اور ان کی نماز میں خلل واقع ہو؟

جواب :

تصویر والے کپڑوں کا استعمال خود تو مکروہ ہے ہی لیکن نماز میں ان کا استعمال کچھ زیادہ ہی نا مناسب اور ناپسندیدہ ہے۔ پہلے زمانے میں ایسے کپڑے پہننے کا رواج تو نہ تھا۔ لیکن از راہِ زینت بچھانے اور لٹکانے کا رواج تھا۔ فقہاء کرام نے اس صورت کو صراحۃً مکروہ قرار دیا ہے۔ علامہ علاء الدین نماز میں مکروہ باتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

ان يکون فوق راسه او بين يديه او بحذائه يمنه او يسرة او محل سجع و تمثال.

مکروہات نماز میں سے یہ بھی ہے کہ سر کے اوپر یا سامنے، دائیں یا بائیں جانب یا اس کے سجدہ کی جگہ تصویر ہو۔

(الدر المختار، جلد 1، مکروہات صلوٰۃ)

صاحب ھدایہ لکھتے ہیں :

ولا باس ان يصلَّیَ علی يساط فيه تصاوير لان فی استهانة بالصور.

جس قالین میں تصاویر بنی ہوں اس پر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس صورت میں تصویروں کی توہین ہے (نہ کہ تعظیم)۔

(هداية، 1 : 142)

تصاویر کے اوپر سجدہ کرنا جائز نہیں ہے۔

ولا يسجُدُ التصاوير لانه يشبه عبادة الصورة.

اور تصاویر پر سجدہ نہ کرے کیونکہ اس میں تصویر کی عبادت سے مشابہت ہے۔

(هدايه، 1 : 142)

لہذا جس مکان میں نمازی کے سامنے کوئی تصویر ہو تو وہ ناجائز ہے اگر دوسری طرف ہو اور نماز میں اس کی تعظیم نہ ہو تو جائز ہے کیونکہ ممانعت تصویر میں اصل علت وہ بت پرستوں سے عبادت میں مشابہت ہے لہذا مشابہت کا خوف نہ ہو تو جائز ہے۔

(فتح القدير، 1 : 362)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

سوال :

السلام علیکم- آج کل نماز والی کرسی جس کے فرنٹ پر تختہ لگا ہوتا ہے- مساجد اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے- اس حوالے سے تمام ضروری مسائل سے آگاہ فرماہیں کہ کس طرح کے مریض یہ کرسی استعمال کر سکتے ہیں اوراس کرسی پر نماز پڑھنےکا درست طریقہ کیا ہے؟

جواب :

بعض لوگوں کو کمر، گھٹنوں یا ٹخنوں وغیرہ میں تکلیف ہوتی ہے اور آج کل بوجوہ یہ صورت عام ہے، چنانچہ وہ کرسی وغیرہ پر بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں، بعض مریض نہ کھڑے ہو سکتے ہیں، نہ رکوع و سجود صحیح طریقہ سے ادا کر سکتے ہیں، وجہ بڑھاپا ہو یا کمزوری یا جوڑوں یا کمر وغیرہ کا درد، بہر صورت معذوری کی وجہ سے جو کر سکتے ہیں کریں۔ عبادات کے وہ حصے جو ادا نہیں ہو سکتے، ان میں شرعاً رعایت ہے۔ دین اسلام میں نہ تنگی ہے نہ تکلیف، اس کی بنیاد یُسر (آسانی) پر رکھی گئی ہے، یہ سہولتیں اور رعایتیں شارع کی طرف سے ہیں۔ ان سے معذوروں کو کوئی بھی محروم نہیں کر سکتا۔ بعض مخلص، دیندار مگر بے علم حضرات اس کی اجازت نہیں دیتے، ان کے نزدیک اس طرح نماز نہیں ہوتی۔ کئی مسجدوں سے کرسی زبردستی اٹھالی گئی ہے۔ یہ سراسر زیادتی، کم عقلی و کم علمی ہے۔ ہمارے پاس اس بارے میں کثرت سے سوالات آئے اور آتے ہیں۔ اس لیے مسئلہ کی وضاحت کے لئے کچھ عرض کیا جاتا ہے۔ مسئلہ کی دو صورتیں ہیں، ایک جائز، دوسری ناجائز۔

صورت مسئلہ

جائز صورت یہ ہے کہ معذور شخص کے سامنے پتھر، روڑا، لوہا، لکڑی وغیرہ سخت چیز ہو اور وہ اس پر سجدہ کرے، یہ بالکل جائز ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ پتھر، اینٹ تختہ اٹھا کر پیشانی کے قریب کرے اور اس پر سجدہ کرے۔ خواہ نمازی خود اٹھائے یا کوئی دوسرا۔ یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔

ان النبی صلی الله عليه وآله وسلم دخل علی مريض يعوده فوجده يصلی کذلک فقال ان قدرت ان التسجد علی الارض فاسجد و الا فاوم براسک. وروی ان عبدالله ابن مسعود دخل علی اخيه يعود فوجده يصلی و يرفع اليه عود فيسجد عليه فنزع ذلک من يدمن کان فی يده وقال هذا شئی عرض لکم الشيطان اوم لسجودک.

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بیمار کی بیمار پرسی کے لیے تشریف لائے، دیکھا کہ وہ اسی طرح نماز ادا کرتا ہے، فرمایا اگر زمین پر سجدہ کر سکتے ہو تو سجدہ کرو۔ ورنہ اپنے سر سے اشارہ کرو۔ اور روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنے بھائی کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ دیکھا کہ وہ نماز ادا کر رہے ہیں۔ لکڑی اٹھائی جاتی ہے اور وہ اس پر سجدہ کرتے ہیں۔ آپ نے اس شخص کے ہاتھ سے لکڑی چھین لی اور فرمایا، یہ چیز شیطان نے تمہیں پیش کی ہے۔ سجدہ کے لیے اشارہ کرو۔

فان فعل ذلک ينظر ان کان يخفض راسه للرکوع شيئاً ثم للسجود ثم يلزق بجبينه يجوز، لوجود الايماء لا للسجود علی ذلک الشئی.

پھر اگر ایسا کر لیا تو دیکھا جائے گا، اگر مریض نے رکوع کے لئے اپنا سر کسی قدر جھکا لیا تو یہ جھکاؤ سجدہ کے لیے پورا ہو گیا۔ پھر اس لکڑی وغیرہ سے پیشانی چمٹا لیتا ہے، تو یہ جائز ہے کہ اشارہ پایا گیا، نہ اس وجہ سے کہ اس چیز پر سجدہ ہوگیا۔

اگر تکیہ زمین پر رکھا ہے اور آدمی اس پر سجدہ کرتا ہے تو اس کی نماز درست ہے، اس حدیث پاک کی وجہ سے کہ ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے،

کانت لتسجد علی مرفقة موضوعة بين يديها لرمد بها ولم عينعها رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم

ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ میں تکلیف تھی، اپنے آگے رکھے ہوئے لکڑی کے تخت پر سجدہ کرتی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا۔

یونہی تندرست آدمی شہر سے باہر سواری پر ہو۔ اور کسی عذر کی بنا پر نیچے نہ اتر سکے، مثلاً دشمن کا خوف، یا درندے کا ڈر، یا کیچڑ گارے کی وجہ سے تو سواری پر بیٹھ کر اشارہ سے نماز ادا کرے، نہ رکوع کرے، نہ سجود، اس لیے کہ معذوری کی ان صورتوں میں نہ رکوع کر سکتا ہے نہ قیام نہ سجود۔ یہ تمام صورتیں ایسی ہیں جیسے بیماری کی معذوری۔

حدیث جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی سواری پر اشارہ سے نماز ادا فرماتے تھے، اور رکوع کی نسبت سجدہ کے لیے زیادہ جھکتے تھے۔

(علامه الکاسانی، بدائع الصنائع، 1 : 108 طبع کراچی)

علامہ ابن العابدین الشامی لکھتے ہیں :

ان کان ذلک الموضوع يصح السجود عليه کان سجودا و الافايماء.

اگر معذور نمازی کے آگے رکھی ہوئی چیز پر سجدہ درست ہے تو یہ سجدہ ہوگا۔ ورنہ اشارہ ہو جائے گا۔

(شامی، 2 : 98، طبع کراچی

علامه ابن نجيم حنفی مصری، البحر الرائق، 2 : 113، طبع کراچی

فتاویٰ عالمگيری، 1 : 70، طبع کوئته

المرغينانی، هدايه مع فتح القدير لمحقق علی الاطلاق، 1 : 458، طبع سکهر)

عبدالرحمن الجزیری لکھتے ہیں :

يکره لمن فرضه الايماء ان يرفع شيئاً يسجد عليه، فلوفعل و سجد عليه يعتبر موميا فی هذه الحالة.

جس پر اشارہ سے نماز ادا کرنا فرض ہے (یعنی معذور) اس کے لیے کسی چیز کو اٹھا کر اس پر سجدہ کرنا مکروہ ہے، اگر ایسا کیا اور اس پر سجدہ کر لیا تو اس حال میں اشارہ کا اعتبار ہوگا۔

(علامه عبدالرحمن الجزيری، الفقه علی المذاهب الاربعة، 1 : 500، طبع بيروت)

الحنفیۃ

اذا لم يستطع فله ان يصلی بالکيفية التی تمکنه.

جب معمول کے مطابق نماز ادا کرنے کی طاقت نہ ہو، تو جس حال میں ممکن ہو ادا کر سکتا ہے۔

(الفقه علی المذاهب الاربعة، 1 : 498، طبع بيروت)

بعض سپیشل کرسیوں پر بیٹھنے کے ساتھ سجدہ کرنے کی تختی بھی لگی ہوتی ہے جس پر معذور سجدہ کے لیے پیشانی رکھتے ہیں، اگر اللہ کریم کی بارگاہ مین یہ سجدہ وضع الجبهة علی الارض کے حکم میں قبول ہوگیا۔ یعنی سجدہ نام ہے، زمین پر پیشانی رکھنے کا، تو تبھی نماز درست ہوگی۔ نہیں تو اشارہ تو پایا گیا، پھر بھی نماز درست ہوگئ۔ اسے ناجائز کہنا کسی صورت درست نہیں۔ نہ لڑائی جھگڑا اور سختی کرنے کی شرعاً گنجائش۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

لاَ يُكَلِّفُ اللّهُ نَفْسًا إِلاَّ وُسْعَهَا.

(البقرة، 2 : 286)

اﷲ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا.

ایک اور مقام پر فرمایا :

مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ.

(الحج، 22 : 78)

اس نے تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

بشروا ولا تنفروا، ويسروا ولا تعسروا، سکنوا. متفق عليه.

لوگوں کو خوشخبری سنایا کرو (ڈرا ڈرا کر اسلام سے) متنفر نہ کرو۔ اور آسانیاں پیدا کیا کرو، سختی پیدا نہ کرو۔ سکون دیا کرو۔

علماء سے گزارش

آپ نے قرآن و حدیث اور فقہائے امت کے ارشادات پڑھ لیے، جب تک کسی دلیل شرعی (نص) کی مخالفت نہ ہو، عوام سے نرم رویہ اپنائیں، تاکہ وہ مسجد کو عبادات سے آباد کریں، معذوروں کو رعایت دی گئی ہے، اس پر عمل کرنے دیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں احکام شرع پر کار بند فرمائے، نفس و شیطان کے کبر و غرور سے بچائے، ہم پر رحم فرمائے، آمین بحرمۃ سیدالعالمین۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

 سوال :

السلام علیکم نفل نماز بیٹھ کر کیوں‌ پڑھتے ہیں؟ اور اس میں رکوع میں جھکنے کی مقدار کیا ہے؟

جواب :

نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت ہے، قیام پر قدرت ہونے کے باوجود نفل نماز بیٹھ کر پڑھ سکتا ہے، اس لیے کہ جب اس کے لیے اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ اصل نماز (نفل) نہ پڑھے تو ترک وصف کی گنجائش بطریق اولی ہوگی۔ البتہ بیٹھ کر نفل نماز پڑھنے سے نصف ثواب ملتا ہے۔ کیونکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے :

صلاة الرجل قاعدا نصف الصلاة.

بیٹھ کر نماز ادا کرنا آدھی نماز ہے۔

(المختصر قدوری شريف)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر بھی نماز ادا فرما لیا کرتے تھے۔

جھکنے کی مقدار

اتنا جھکنا چاہیے کہ کوئی دیکھنے والا یہ تصور نہ کرے کہ سجدہ کر رہا ہے، رکوع اور سجدہ میں واضح فرق ہونا چاہیے، یعنی اس کا ماتھا اور ناک زمین پر نہ لگے، سجدہ سے قریب تر نہیں ہونا چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

سوال :

کیا نماز کے دوران ٹخنوں سے اوپر پاجامہ موڑے رکھنا جائز ہے؟ اگر نہیں تو دوسری احادیث پر عمل نہیں ہوتا۔ براہ مہربانی وضاحت سے جواب دیں۔

جواب :

اصل میں اس مسئلہ میں یہ ہے کہ غرور و تکبر کسی مخلوق کی طرف سے بھی ہو، معیوب اور شریعت کی نگاہ میں مردو و مغضوب ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا :

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍo

(لقمان، 31 : 18)

اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اﷲ ہر متکبّر، اِترا کر چلنے والے کو ناپسند فرماتا ہےo

حدیث پاک میں آتا ہے کہ

قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم الا اخبرکم باهل الجنة کل ضعيف متضعف لو اقسم علی الله لابره، الا اخبرکم باهل النار کل عتل جواظ مستکبر.

(بخاری و مسلم)

کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ ہر کمزور لوگوں کی نظروں میں اگر ہوا۔ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم اٹھا لے تو اللہ ضرور اس کی قسم پوری فرمائے، کیا میں تمہیں دوزخی لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہر درشت رو، سخت مزاج، مغرور و متکبر۔

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے دل میں ذرہ بھر تکبر ہوا؟ جنت میں داخل نہ ہوگا۔

ان الرجل يحب ان يکون ثوبه، حسنا و نعله حسنا قال الله تعالی جميل يحب الجمال الکبر بطر الحق و غمظ الناس.

ایک شخص نے عرض کی، ہر آدمی اچھا کپڑا اور اچھا جوتا پسند کرتا ہے (تو کیا یہ تکبر ہے؟) فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے حسن کو پسند فرماتا ہے۔ تکبر اللہ کے حضور اکڑنا اور اس کے حکم کو رد کرنا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے۔

(مسلم شريف)

اس لئے اسلام غرور و تکبر اور اس کی علامات سے منع کرتا ہے اور آدمی میں توضع و انکساری پیدا کرتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

من تواضع لله رفعه الله فهو فی نفسه صغير و فی اعين الناس عظيم و من تکبر وضعه الله فهو فی اعين الناس صغير و فی نفسه کبير حتی فهو اهون عليهم من کلب او خنزير.

(مشکوٰة، ص 434، بحواله بيهقی)

جو اللہ کے آگے جھکتا ہے، اللہ اس کو بلند کرتا ہے، وہ اپنے خیال میں چھوٹا اور لوگوں کی نظر میں بڑا ہوتا ہے اور جو غرور کرتا ہے، اللہ اسے نیچا کر دیتا ہے۔ وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا اور اپنی نگاہ میں کتے اور خنزیر سے بھی ذلیل ہوتا ہے۔

غرور و تکبر کی کئی صورتیں ہیں۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو معاذ اللہ گھٹیا سمجھنا، اپنی باتوں کو قانون سمجھنا اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کو رد کرنا، جیسا ہماری اسمبلیوں میں ہوتا ہے، ہمارے سیاستدان اور حکمران کرتے ہیں کہ اپنی باتوں کو قانون قرار دے کر ملک میں نافذ کرتے ہیں اور قرآن و سنت کی ہدایات کو مسترد کر دیتے ہیں۔ یہ غرور و تکبر کی بدترین صورت ہے۔ یہ خدا کی سیٹ پر بیٹھے خدائی کر رہے ہیں۔ خدا کا قانون معطل اور ان کا قانون جاری و ساری اور پھر بھی پکے مسلمان۔

یونہی علم و عرفان کے مدعی، غریبوں سے نفرت، امیروں سے عقیدت۔ حالانکہ خدا و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو سب کے لیے رؤف سب کے لیے رحیم ہیں۔ ان کی نظر عنایت کیوں ایک طرف جھکی رہتی ہے؟ غریب سے دو انگلیوں سے مصافحہ اور امیر سے مصافحہ و معانقہ و قیام و طعام۔

غرور و تکبر سے ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا

مغرور و متکبر لوگوں کی بد اعمالیوں اور بے اعمالیوں کی یہ ادنی سی مثال ہے، ورنہ سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے۔ غرور و تکبر کا اظہار، بیاہ شادی، ولادت، موت، دفتر، دکان، گھر، بازار ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :

لا يدخل النار احد فی قلبه مثقال حبة من خردل من ايمان ولا يدخل الجنة احد فی قلبه مثقال حبة من خردل من کبر.

(صحيح مسلم)

کوئی ایسا شخص دوزخ میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی ایمان ہوا اور جنت میں نہیں جائے گا، کوئی ایسا شخص جس کے دل میں رائی کے دانے برابر بھی غرور و تکبر ہوا۔

دوسرے موقع پر فرمایا :

من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة.

(بخاری و مسلم)

جو شخص غرور و تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نگاہ کرم نہیں فرمائے گا۔

نیز فرماتے ہیں :

ما اسفل من الکعبين من الازار فی النار.

(بخاری)

غرور و تکبر سے چادر (یا شلوار، پینٹ، پاجامہ وغیرہ) کو جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہے، جہنم میں ہوگا۔

وضاحت مسئلہ

ان ارشادات پر بار بار غور کریں جو شخص غرور و تکبر سے کپڑا گھسیٹے اسے عذاب سے ڈرایا گیا ہے، اس کی نمایاں مثال چوہدری، جاگیر دار ہیں، جو اعلیٰ قیمتی تہ بند (دھوتی) پہن کر زمین پر گھسیٹتے ہوئے مٹکتے چلتے ہیں۔ تاکہ لوگوں پر اپنا دولت مندی و امارت کا رعب ڈال سکیں۔ اسی چیز سے منع کرنا مقصود ہے کہ اپنے آپ کو بڑا اور دوسروں کو گھٹیا نہ سمجھا جائے۔ اللہ کی نعمت کی بے قدری نہ کی جائے، اگر یہ وجوہات نہ ہوں تو ٹخنوں سے نیچے شلوار، دھوتی، پاجامہ یا پتلون وغیرہ کا ہونا ہرگز گناہ یا منع نہیں اور یہ اعلان خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جیساکہ خیلاء کے لفظ سے واضح ہے کہ غرور و تکبر سے چادر گھسیٹنا حرام ہے، اگر یہ بات نہ ہو تو حرام نہیں، جائز ہے۔

قال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله اليه يوم القيامة، فقال ابو بکر ان احد شقی ثوبيی يستخرجی الا ان اتعاهد ذالک منه، فقال رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم انک لست تصنع ذلک خيلاء.

(صحيح بخاری، 1 : 517، طبع کراچی)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو اپنا کپڑا تکبر و غرور سے گھسیٹے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر نظرکرم نہیں فرمائے گا۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی، میرے کپڑے کا ایک کونہ، اگر پکڑ نہ رکھوں، نیچے لٹک جاتا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، تم ایسا غرور و تکبر سے نہیں کرتے۔

گویا جس بات سے دوسروں کو اس لیے منع فرمایا کہ اس میں غرور و تکبر ہے، اس کی اجازت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو اس لیے دی کہ ان میں غرور و تکبر نہیں۔ پس اصل ممانعت غرور و تکبر کی ہے۔ جن محکموں میں ملازمین کی وردی ہوتی ہے، ان کو قانوناً اسی طرح پہننا پڑتی ہے، جس کا مشاہدہ ہر شخص کرتا ہے، اس پابندی میں اعلیٰ ترین آفیسرز سے لے کر ایک سپاہی یا اہل کار تک، سب شامل ہیں۔ نہ پتلون زمین پر گھسٹتی ہے نہ کوئی غرور و تکبر سے پہنی جاتی ہے۔ پس اس صورت میں پتلون، شلوار، پاجامہ یا چادر کا ٹخنوں سے نیچے ہونا ہرگز مکروہ، حرام یا ممنوع نہیں۔ زیادہ سے زیادہ بعض لوگوں نے ایسی صورت میں مکروہ تنزیہی کا قول کیا ہے، جو خلاف اولیٰ ہوتا ہے حرام نہیں۔ (مزید مطالعہ کے لیے شرح بخاری، شرح مشکوٰۃ للشیخ عبدالحق محدث دہلوی و فتاوی عالمگیری)

پس آپ جس طرح نماز پڑھیں جائز ہے، شرعاً قدغن نہیں۔ جو شدت کرے ان سے حوالہ جات کا جواب پوچھیں، اللہ پاک ہمیں سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی